03/08/2026
*امام اعظم ابو حنیفہؒ کا صبر — ایک ایسا جواب جس نے تاریخ میں مثال قائم کر دی*
امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے والدِ محترم کا انتقال ہو گیا۔ آپ تین دن تک تعزیت کے لیے گھر میں تشریف فرما رہے۔ جب تعزیت کا وقت مکمل ہوا تو حسبِ معمول گھر سے باہر نکلے اور شہر کے ایک چوک میں پہنچے، جہاں بہت سے لوگ موجود تھے۔
اسی مجمع میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو امام ابو حنیفہؒ سے شدید حسد رکھتا تھا۔ پورا شہر جانتا تھا کہ وہ آپ کا سخت مخالف ہے۔
وہ آگے بڑھا، سلام کیا اور بولا:
"سنا ہے آپ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے؟"
امام صاحبؒ نے نہایت سکون سے فرمایا:
"جی ہاں۔"
پھر اس شخص نے انتہائی دل آزار انداز میں کہا:
"تو پھر اپنی والدہ کا نکاح میرے ساتھ کر دیجئے!"
یہ ایسا جملہ تھا جو کسی بھی انسان کے دل کو چیر سکتا تھا۔
امام صاحبؒ کے ساتھ موجود شاگرد اور عقیدت مند یہ گستاخانہ بات سن کر غصے سے بھر گئے اور فوراً اپنی تلواروں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
مگر امام اعظمؒ نے انہیں روک دیا اور فرمایا:
"خاموش رہو... ہم کوئی لاوارث نہیں ہیں۔"
پھر خود بڑی ہمت، وقار اور ضبط کے ساتھ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے۔ آنکھوں میں آنسو ضرور آئے، مگر آپ نے انہیں بھی اپنے صبر کے دامن میں سمو لیا۔
آپ نے نہایت سکون سے فرمایا:
"تم نے میری والدہ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ابھی ان کی عدت باقی ہے۔ عدت مکمل ہونے دو، پھر میں تمہارا پیغام ان تک پہنچاؤں گا۔ اگر وہ خود راضی ہوئیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"
یہ جواب سن کر امام صاحبؒ وہاں سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔
چند ہی لمحوں بعد وہ شخص زمین پر گر پڑا، اور روایت کے مطابق اس کی روح پرواز کر گئی۔
لوگ حیران ہو کر امام صاحبؒ کے پاس آئے اور پوچھا:
"حضرت! اسے کیا ہو گیا؟"
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"اسے کچھ نہیں ہوا... اس نے سمجھا تھا کہ ابو حنیفہ بے سہارا ہیں، مگر اللہ نے اسے دکھا دیا کہ صبر کی طاقت کیا ہوتی ہے۔"
🌿 اس واقعے میں ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔
زندگی میں بعض اوقات لوگ ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جو دل کو زخمی کر دیتے ہیں۔
لیکن ہر سخت بات کا جواب غصے سے دینا ضروری نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی خاموشی، برداشت اور حسنِ اخلاق وہ اثر چھوڑ جاتے ہیں جو تلوار بھی نہیں چھوڑ سکتی۔
حسد انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتا ہے، جبکہ صبر انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حسد، غصے اور انتقام کی آگ سے محفوظ رکھے، اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جیسا حلم، صبر اور بہترین اخلاق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤍