21/05/2026
Most bold and romantic novel scene 🥵🔥🥀"اچھا؟ مجھے تو یاد نہیں۔۔۔" مومل نے انجان بننے کی اداکاری کرتے ہوئے اس سے دور ہونا چاہا، مگر احرار نے اس کی چالاکی بھانپتے ہوئے اسے کَس کر دوبارہ اپنے سینے سے لگا لیا۔"کوئی بات نہیں، میں یاد دلا دیتا ہوں۔ ویسے بھی تمہاری یادداشت تھوڑی کمزور ہے۔" احرار نے اس کے گالوں پر اپنی ناک کی نوک رگڑتے ہوئے شرارتی لہجے میں کہا۔ اس کی ہتھیلیوں کی تپش مومل کے جسم کے ہر ایک خم اور خد و خال پر سفر کرتے ہوئے اس کے بدن کی نرمی اور نزاکت کو محسوس کر رہی تھی۔"نہیں مجھے یاد نہیں کرنا۔۔۔ مجھے بہت نیند آئی ہے، مجھے۔۔۔ آہ! سونا ہے۔۔۔" مومل بے نیاز بنی مسکراتے ہوئے اسے تنگ کر رہی تھی، مگر جیسے ہی احرار کا ہاتھ قمیص کے اندر اس کے سینے کو بھینچنے لگا، وہ شدتِ جذبات سے اچھل ہی پڑی۔"نیندیں بھی پوری کر لینا... پہلے وعدہ تو پورا کر لو۔ گندے بچے وعدہ خلافی کرتے ہیں۔" احرار کی آواز گھمبیر اور گہری تھی، مگر لہجے میں شرارت واضح تھی۔ اس کے ہاتھ قمیص کے اندر اس کے نرم و مخملی جسم کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے مومل کو سسکیاں بھرنے پر مجبور کر رہے تھے۔"پر میں تو گندی بچی ہوں..." مومل نے ناک سکوڑتے ہوئے کہا۔ وہ براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔"پھر ہم آج کچھ گندا گندا کریں گے... بہت مزہ آئے گا۔" احرار نے اس کے لرزتے لبوں پر اپنی نظریں مرکوز کرتے ہوئے کہا۔ اس کی مسکراہٹ میں دبے لب دیکھ کر احرار کا حلق خشک ہونے لگا تھا، جیسے وہاں کانٹے چبھنے لگے ہوں۔"پر آپ تو گندے بچے نہیں ہیں نا..." مومل نے اس کے ہاتھوں کی حرکت روکنے کے لیے قمیص کے اوپر ہی ان پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، جو نیچے سرکتے اس کی رانوں کی اندرونی سطح کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے لگے تھے۔"کوئی نہیں، تمہارے لیے بننے میں کوئی حرج نہیں۔" احرار نے کہتے ہی اس کے پنکھڑی جیسے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں لے لیا۔ وہ خود زمین پر بیٹھا ہوا تھا اور مومل اس کی گود میں۔ وہ اس کے مخملی نازک بدن کو اپنے سینے کے ساتھ بے باکی سے لپٹاتا رہا۔ اس کے اس عمل سے دونوں کے جسموں سے چنگاریاں سی اٹھنے لگی تھیں۔سانسوں کی تنگی پر اس کے لبوں کو آزاد کرتے ہوئے وہ اس کی صراحی دار گردن پر جھک گیا اور وہاں اپنے نم اور تشنہ لب رکھتے ہوئے اپنی جنون خیزیاں لٹانے لگا۔ اس کے اس عمل سے مومل کی آنکھیں لذت سے بند ہو گئی تھیں اور اس کے نازک ہاتھ سرک........