سبق آموز کہانیاں

سبق آموز کہانیاں Operate Digital Franchise with many online services
(1)

11/09/2025

۔۔۔۔۔۔

*شہید ناموس رسالت غازی عامر عبد الرحمن چیمہ شہید رحمۃ اللّٰہ*

قسط نمبر 04

یہ نوجوان امت مسلمہ کا قابل فخر سپوت اور مایہ ناز فرزند غازی عامر چیمہ تھا اور وہ اخبار جس کے ایڈیٹر پر عامر چیمہ نے قاتلانہ حملہ کیا، ان ذرائع ابلاغ میں سے ایک تھا، جنہوں نے کائنات کی سب سے معزز و محترم ہستی نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا یا اس ناپاک جسارت کی حمایت کی۔ عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے وہ ایک مردِ جری نکلا، جس نے اپنے محبوب کی حرمت پر حملہ آور ہونے والوں کو ختم کر ڈالنے کا عزم کیا۔ یہ سوچے بغیر کہ خود اس کا اپنا انجام کیا ہوگا؟

جرمن پولیس نے عامر چیمہ کو گرفتار کیا اور تین دن بعد جب اس مردِ جری کو عدالت میں پیش کیا گیا تو یورپ کے دل میں خنجر پیوست کرنے والے گوروں کے اس مجرم کے ساتھ ساتھ عدالت کے روبرو اس کا وہ تحریری بیان بھی پیش کیا گیا، جس میں اس نے کہا تھا کہ:

میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے اخبار "ڈی ویلٹ (Die Welt)" کے ایڈیٹر ہینرک بروڈر (Henryk Broder) پر قاتلانہ حملہ کیا۔ یہ شخص ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا ذمہ دار تھا اور اگر مجھے آئندہ موقع ملا تو میں ایسے ہر شخص کو قتل کر ڈالوں گا۔ یہ سب کچھ سیاہ دل گوروں کے لئے ناقابلِ برداشت تھا۔ لہٰذا عامر چیمہ جیسے بہادر، جری، بے خوف اور نڈر مسلمان کو قانون سے ماوراء رہتے ہوئے جرمن پولیس نے اپنی حراست میں سخت تشدد اور ہتک کا نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔

بنا کردند خوش رہیں یہ خاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

شہیدِ ناموسِ رسالت کے والدِ محترم فرماتے ہیں:

عامر عشقِ رسول کا مجھ سے بڑھ کر تھا۔

خوبصورت سفید ڈاڑھی، دراز قد، باوقار سنجیدہ چہرہ اور روشن آنکھوں والے جناب محمد نذیر چیمہ صاحب ان خوش قسمت ترین والدین میں سے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے عشقِ رسول سے سرشار صدق و وفا کی پیکر اولاد عطا کی۔ جن لوگوں نے پروفیسر محمد نذیر صاحب کی زیارت کی، انہیں یہ کہنے میں ذرہ بھر تردّد نہیں کہ غازی عامر چیمہ شہید رحمۃ اللہ علیہ جیسے بہادر، دلیر اور نیک بخت بیٹے کی تربیت ایسے با برکت سایۂ عاطفت ہی میں ہو سکتی تھی۔

محترم جناب محمد نذیر چیمہ صاحب کا آبائی تعلق ضلع گوجرانوالہ، تحصیل حافظ آباد کے گاؤں ساروکی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عین شباب میں اپنی طرف توجہ اور انابت نصیب فرمائی اور اس میں بڑا دخل آپ کی والدہ محترمہ کا تھا، جو آج بھی الحمدللہ بقیدِ حیات ہیں اور اپنے گاؤں میں رہائش پذیر ہیں۔ انتہائی قریبی عزیزوں کی شہادت ہے کہ عامر شہید کی دادی صاحبہ مستقل اور دائمی تہجد گزار خاتون ہیں اور نیکی و عبادت گزاری آپ کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل موصوفہ کو فالج کا حملہ ہوا، جس کی وجہ سے کافی بیمار ہو چکی ہیں۔

پروفیسر محمد نذیر چیمہ صاحب ابتدا میں ائر فورس سے وابستہ ہوئے اور پھر بہت جلد ہی شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ دسمبر 1971ء سے جنوری 2006ء تک آپ حشمت علی اسلامیہ کالج راولپنڈی میں بطور استاد تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ آپ کا موضوعِ تدریس تعلیمِ جسمانی (Physical Education) رہا اور اب آپ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد فراغت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اپنے اکلوتے، لاڈلے محبوب، جواں سال، خوبصورت، فرشتہ سیرت، بہادر اور دلیر بیٹے کے سانحۂ شہادت کو پروفیسر صاحب نے جس حوصلے اور استقامت سے برداشت کیا ہے، بلاشبہ یہ انہی کا حصہ ہے۔ ہر ملنے والا محسوس کرتا ہے کہ غموں کے پہاڑ تلے دبے اس باحوصلہ باپ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہے، چہرے پر اطمینان و سکون چھایا ہوا ہے اور نگاہوں میں کرانگیز کشش جگمگا رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں برکت نصیب فرمائے۔ آمین۔

پروفیسر صاحب نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے ایک خصوصی نشست میں غازی عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ہمارے چند سوالات کا جواب دیا، جنہیں ہم قارئین تک پہنچا رہے ہیں۔

سوال: عامر شہید کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟
جواب: 4 دسمبر 1977ء لیکن کاغذات میں 6 دسمبر لکھی ہوئی ہے۔

سوال: غازی عامر شہید نے دینی تعلیم کہاں اور کتنی حاصل کی؟
جواب: میں اسے گھر میں خود ہی دینی تعلیمات سے آگاہ کرتا تھا۔ میں نے خود اسے نماز روزہ کے مسائل بتائے اور دیگر اہم احکامات سے آگاہ کیا۔ قرآنِ کریم ناظرہ اس نے حشمت علی کالج کی مسجد میں پڑھا۔ وہ تمام دینی ضروری تعلیمات سے روشناس تھا۔

سوال: عامر شہید کے باقی تعلیمی مراحل کہاں طے ہوئے؟
جواب: عامر نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول راولپنڈی میں حاصل کی۔ پھر ایف سی کلوز مینجمنٹ کی تعلیم کے لئے جرمنی گیا تھا۔ اس کورس کا چوتھا اور آخری مرحلہ چل رہا تھا۔ جولائی میں فراغت کے بعد وطن واپسی ہونی تھی۔

سوال: شادی کا کیا ارادہ تھا؟
جواب: یہ تو ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے۔ واپسی کے بعد کا ارادہ تھا۔

سوال: مستقبل کے حوالے سے عامر شہید کے کیا ارادے تھے؟
جواب: وہ پڑھائی کے بعد یونیورسٹی میں لیکچرار لگنا چاہتا تھا۔ اس کے لئے پی ایچ ڈی ضروری تھی۔ اسی لئے پی ایچ ڈی کے لئے وہ جرمنی گیا۔ عامر صرف انجینئر بن کر ملازمت نہیں کرنا چاہتا تھا، تاہم جرمنی جانے سے پہلے اس نے تقریباً دو سال کراچی اور لاہور میں ملازمت کی۔

سوال: آپ کے خیال میں جرمنی میں پیش آنے والے واقعہ کے محرکات کیا تھے؟
جواب: حبِّ رسول ﷺ کے سلسلہ میں وہ مجھ سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ اگرچہ نمازوں کے بارے میں میں سخت تھا، لیکن عشقِ رسول ﷺ کے سلسلہ میں اس کے اندر بالکل لچک نہ تھی۔ اس موضوع پر گفتگو ہوتی تو وہ ہمیشہ بہت جذبات میں آجاتا۔ دوسرے لوگوں کی طرح اس معاملے میں اس نے کبھی کمزوری یا نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

سوال: آپ کو عامر شہید کی گرفتاری کا کب پتہ چلا؟
جواب: عامر 20 مارچ کو گرفتار ہوا۔ 17، 18 اپریل کی درمیانی رات ہمارا جرمنی سے رابطہ ہوا۔ وہاں مقیم رشتہ داروں نے باتیں کیں لیکن ہم نے عامر کا نام لیا تو فون بند کر دیا۔ آدھے گھنٹے بعد انہوں نے حافظ آباد فون کر کے واقعہ کی خبر دی، تب ہمیں اطلاع ملی۔

سوال: کیا آپ سوچ سکتے تھے کہ عامر شہید ایسا جراتمندانہ اقدام اٹھائے گا؟
جواب: اس کے اندر میں ایسے جذبات محسوس کرتا تھا۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ بہت وقت گزارتا ہوں۔ وہ اکثر مجھ سے کہتا کہ فلاں واجب القتل ہے تو میں اسے سمجھاتا کہ یہ تمہارا کام نہیں، حکومت کا کام ہے۔ اگر وہ فون پر مجھے بتا دیتا کہ میں ایسا کام کرنے لگا ہوں تو میں شاید اسے روکنے کی کوشش کرتا۔ وہ ایسے معاملات میں اکثر جذباتی ہو جایا کرتا تھا۔ اسی لئے ہم نے خاکوں کے بارے میں اس سے بات نہیں کی، کہ کہیں وہ جذباتی نہ ہو جائے، لیکن وہ خود ہی حساس طبیعت رکھتا تھا۔

سوال: جرمن پولیس دعویٰ کر رہی ہے کہ عامر نے خودکشی کی، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب: بات یہ ہے کہ 20 مارچ کو عامر گرفتار ہوا اور 4 مئی کو شہادت کی اطلاع ملی۔ اس دوران کسی رشتہ دار کو اس سے ملنے نہیں دیا گیا۔ اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ اور پھر ایک آدمی دلیرانہ اقدام اٹھاتا ہے، عشقِ رسول سے سرشار ہوتا ہے، وہ خودکشی جیسا قدم کیسے اٹھا سکتا ہے؟ اب تو صورتحال یہ ہے کہ جرمن حکومت نے زبردستی اسے رکھا ہوا ہے۔ چار دن بعد وہ جو لکھ کر دیں گے، ہماری حکومت اسے خاموشی سے قبول کر لے گی۔

سوال: شہادت سے پہلے تک عامر شہید کے مقدمے کی نوعیت کیا رہی؟
جواب: عدالت میں اسے پیش تو کیا گیا، اس کا تحریری بیان بھی لیا گیا اور عدالت سے ریمانڈ بھی لیا گیا لیکن مقدمہ باقاعدہ قائم نہیں ہوا۔ اگر مقدمہ قائم ہو جاتا اور چلتا تو اتنا خدشہ نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ اسے جرمنی سے ڈی پورٹ کر دیا جاتا اور پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ تک یہ مقدمہ نہیں چلنا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی انہوں نے اسے شہید کر دیا۔

سوال: آپ کا آخری بار اپنے بیٹے سے براہِ راست رابطہ کب ہوا؟
جواب: میری اس سے آخری بات 5 مارچ کو فون پر ہوئی۔ اس کے بعد 8 مارچ کو اس نے اپنے ایک رشتہ دار کی شادی پر فون کیا اور اس سے گپ شپ لگا کر مبارکباد پیش کی۔ اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

سوال: کیا آپ نے عامر کو جرمنی اپنی خوشی سے بھیجا تھا؟
جواب: میں اسے یورپ نہیں بھیجنا چاہتا تھا، اس لئے کہ مجھے پہلے سے خدشات تھے۔ میں چاہتا تھا کہ اسے چین یا جاپان بھیجوں لیکن داخلہ جرمنی میں ملا، اس لئے وہاں بھیج دیا۔

سوال: عامر شہید کی گرفتاری اور مقدمے کے حوالے سے جرمنی میں پاکستانی سفارتخانے کا کردار کیا رہا؟
جواب: جرمنی میں پاکستانی ایمبیسی کے سیکرٹری خالد عثمان نے مجھ سے رابطہ رکھا اور مجھے تفصیلات بتاتے رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عامر سے میری بھی کل ہی فون پر بات ہوئی ہے اور وہ بالکل خیریت سے ہے، اسے کوئی خوف نہیں ہے۔ اس کی آواز سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ مطمئن ہے لیکن اندر کی بات اور حقیقت کیا تھی ہمیں کچھ نہیں معلوم!

سوال: اکلوتے بیٹے کی شہادت اور اس جدائی کے بعد آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟
جواب: ہر انسان کی خواہش اور زندگی کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے اور اگر اسے یہ حاصل ہو جائے تو یہ اس کی سعادت ہے۔

♥️🌸🌼🤲🌹

10/09/2025

۔۔۔۔۔

*شہید ناموس رسالت غازی عامر عبد الرحمن چیمہ شہید رحمۃ اللّٰہ*

قسط نمبر 03

شہید کے رشتہ دار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پروفیسر نذیر چیمہ اور ان کا سعادت مند بیٹا عامر چیمہ خاندان بھر میں سب سے زیادہ علم دوست اور باوقار شخصیات کے مالک رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان باپ بیٹا نے کبھی اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا نہیں سمجھا اور نہ ہی کسی کو تکبر کی نظر سے دیکھا۔

دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے کٹ کے رہنے کے یہ معنی نہیں کہ عامر شہید نے اپنوں کو بھلا دیا، انہیں نظر انداز کیا، ان کی حق تلفی کی یا حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی برتی۔ خدمتِ خلق کا جذبہ ان کی گھٹی میں شامل تھا۔ وہ لوگوں کے کام آنے میں کبھی پیچھے نہ رہے۔ ضرورت مندوں کے کام آتے، اگر کسی کی حاجت پوری کرنے کی استطاعت اپنے اندر نہ پاتے تو اس سے خیر سگالی کرنے اور اظہارِ ہمدردی سے قطعاً نہ چوکتے۔ کچھ نہ ہوتا تو اس کو بہتر اور مفید مشورے دیتے۔ اگر کوئی شخص انہیں کوئی کام کہہ دیتا اور وہ اسے کر سکتے تو ضرور کرتے، خواہ اس کے لئے انہیں پیادہ پا دراز سفر کرنا پڑتا یا محنت مشقت اٹھانی پڑتی۔ جفاکشی ان کی طبیعت تھی اور سہولت میسر نہ ہونے کی صورت میں وہ مشقت کرنے سے بھی نہیں اکتاتے۔

والدین کی خدمت اور اطاعت اور بہنوں سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ والد محترم کی ہر ہدایت کو حرزِ جاں بنا کر رکھتے اور والدہ محترمہ کا خوب خوب خیال رکھتے۔ والدین کا بھی اپنے بیٹے سے اس قدر پیار تھا کہ آخری بار جب وہ جرمنی گئے تو اس وقت گھر کے ایک کمرے میں ان کے ہاتھوں سے لٹکائے ہوئے کپڑوں کا ایک جوڑا آج بھی اسی طرح لٹک رہا ہے اور والدین نے اسے وہاں سے نہیں ہٹایا کہ یہ ان کے پیارے لختِ جگر اور نورِ نظر کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

آپ جرمنی سے آخری بار جب والدین اور بہنوں سے ملنے کے لئے پاکستان آئے تو والدہ محترمہ نے ایک دن اپنے پیارے بیٹے سے کہا کہ بیٹا! اب ہم تمہاری شادی کا سوچ رہے ہیں، یہ گھر تمہارے لئے ہی بنایا گیا ہے۔ یہ سن کر عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ حسبِ معمول مسکرا دیے اور والدہ کی خدمت میں عرض کی:
امی جان! مجھے اس میں سے کچھ نہیں چاہیئے، میں نے اپنا سارا حصہ اپنی پیاری بہنوں کو دے دیا ہے۔

*تاریخی کارنامہ*

ستمبر 2005ء میں جبکہ غازی عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ جرمنی میں زیرِ تعلیم تھے، یورپی دنیا کی طرف سے وہ ناپاک جسارت سامنے آئی جسے دنیا کے ہر شریف طبع شخص نے نفرت کی نظر سے دیکھا۔ ڈنمارک کے ایک اخبار کی طرف سے شائع ہونے والے نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی پر مشتمل خاکے پوری دنیا میں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے، انہیں اشتعال دلانے اور ان میں غم و غصہ کی لہر دوڑانے کا باعث بنے۔ ایسے میں عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ کا ان واقعات سے متاثر ہونا ایک یقینی امر تھا، جبکہ آپ کی زندگی کے کئی مراحل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ عشقِ رسول ﷺ کے معاملے میں انتہائی سخت اور غیر لچکدار رہے۔

شہید کے والد محترم فرماتے ہیں کہ میں نے بیٹے کے ساتھ اکثر و بیشتر بیٹھ کر مختلف موضوعات پر گفتگو کیا کرتا تھا اور بات چیت کے دوران اکثر ایسے امور بھی زیرِ بحث آتے تھے جن کا تعلق نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس سے ہوتا تھا۔ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ باقی دینی معاملات میں، میں اس سے زیادہ سخت اور پابند تھا لیکن عامر عشقِ رسول اور نبی اکرم ﷺ کی محبت کے سلسلے میں مجھ سے کہیں زیادہ آگے بڑھا ہوا تھا۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ کسی بے دین یا گستاخِ رسول کی بات چلتی تو عامر سخت جذباتی ہو جاتا اور کہتا کہ فلاں واجب القتل ہے۔ ایسے موقع پر میں اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا اور کہتا کہ بیٹا! یہ کام حکومت کا ہے، تمہارا نہیں۔

ایک ٹیکسٹائل مل سے ملازمت ترک کرنے کی وجہ بھی آپ کے یہی جذبات بنے۔ ماجرا کچھ اس طرح کہ مل میں ایک ایسے ڈیزائن کی ٹائل تیار کی جا رہی تھی جسے دیکھ کر لفظ "محمد" لکھا ہونے کا شبہ ہوتا تھا۔ عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مل کے ذمہ داران کو اس طرف توجہ دلائی اور اصرار کیا کہ وہ اس طرح کی ٹائل بنانا بند کریں تاکہ توہین اور بے ادبی کی صورت پیدا نہ ہو۔ بار بار توجہ دلانے کے باوجود جب انتظامیہ نے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا تو آپ بے چین ہو گئے اور اس بے چینی کے عالم میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر واپس گھر تشریف لے آئے۔ حالانکہ اس ادارے میں آپ کی شخصیت کو کافی اہمیت حاصل تھی اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ بلکہ عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ مل کے ان انجینئرز میں سے تھے جنہیں خود انتظامیہ نے درخواست کر کے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔

کچھ ایسا بھی تھا کہ ان کے لاشعور میں یہ بات بس چکی تھی کہ اللہ نے ان سے کوئی بہت بڑا کام لینا ہے۔ چنانچہ آخری بار جرمنی جانے سے پہلے آپ نے کئی بار اپنے والد محترم کی خدمت میں عرض کی:

ابو جان! پتہ نہیں اللہ تعالیٰ مجھ سے کیا کام لینا چاہتے ہیں؟

ان کی اس بات کے جواب میں والد صاحب یہی کہتے کہ بیٹا! اللہ تعالیٰ آپ کو پڑھا لکھا کر بڑا آدمی بنانا چاہتے ہیں۔

پروفیسر محمد نذیر چیمہ صاحب فرماتے ہیں کہ یورپ میں جب توہین آمیز خاکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ہم نے جان بوجھ کر بھی اپنے بیٹے سے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ کہیں وہ جذباتی ہو کر کوئی بڑا قدم نہ اٹھا ڈالے۔

لیکن عشق و محبت کی جو آگ عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مبارک سینے میں سلگ رہی تھی اس سے ان کے سوا ہر شخص بے خبر تھا۔

جرمنی میں تعلیمی کورس کے چوتھے مرحلے کے دوران یونیورسٹی میں چند دن کی تعطیلات ہوئیں تو عامر شہید اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے برلن شہر آگئے، جہاں آپ کے بڑے ماموں کی صاحبزادی اور ان کا گھرانہ عرصہ دراز سے رہائش پذیر ہے۔ یہاں عامر شہید نے معمول کے مطابق چھٹیاں گزاریں، تاہم ان میں ایک تبدیلی ایسی تھی جو وہاں موجود سب رشتہ دار دیکھ رہے تھے۔ ماموں زاد بہن کے شوہر کہتے ہیں کہ ہم بہت شدت سے محسوس کر رہے تھے کہ عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ دنوں سے گہری سوچوں میں گم رہتے تھے۔ ایک دن ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر کم گو کیوں نظر آ رہے ہیں؟ کوئی پریشانی یا تکلیف تو نہیں؟ لیکن انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ مجھے نہ کوئی پریشانی ہے اور نہ ہی تکلیف۔

یونیورسٹی کی طرف سے ملنے والی تعطیلات 11 مارچ کو ختم ہوگئیں لیکن عامر یونیورسٹی نہیں گئے۔ وہ برلن ہی میں رہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ اس دوران شبانہ روز ان کی سرگرمیاں کس نوعیت کی رہیں۔ تاہم آنے والے حالات و واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ عامر ان دنوں اپنے اس مبارک منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے راہیں تلاش کرتے رہے جس پر انہوں نے چند دنوں بعد عمل پیرا ہونا تھا۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ دن ان کے لئے انتہائی اہم اور مصروف ترین تھے۔

20 مارچ 2006ء کی صبح سے عامر چیمہ اپنے رشتہ داروں کے گھر سے غائب تھے اور کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ اسی دن ہی سورج ڈھلنے کے بعد برلن شہر میں ایک اہم واقعہ پیش آیا۔

جرمنی سے شائع ہونے والے ایک قدیم اخبار "ڈائی ولٹ" (Die Welt) کے مرکزی دفتر میں ایک نوجوان داخل ہوا اور بغیر رکے ہوئے اخبار کے ایڈیٹر "ہنریش بروڈر" (Henryk Broder) کے کمرے کی طرف بڑھا، جہاں وہ شخص اپنے دفتری کاموں میں مشغول تھا۔ نوجوان کے عمارت میں داخل ہوتے ہی سیکیورٹی اہلکار اس کی طرف لپکے اور اسے پکڑنے کی کوشش کی۔ لیکن نوجوان پورے رعب اور اعتماد کے ساتھ دھاڑا اور انہیں للکارتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو وہ اپنے جسم کے ساتھ بندھا ہوا بارود اُڑا ڈالے گا اور وہ سب اس کے ساتھ موت کے گھاٹ اتر جائیں گے۔

یہ سنتے ہی سیکیورٹی اہلکار گھبرا کر پیچھے ہٹ گئے اور نوجوان بھاگتا ہوا ایڈیٹر کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ پل بھر میں اس نے کپڑوں میں چھپایا ہوا "مہنر نائف" نامی خاص شکاری خنجر نکالا اور ایڈیٹر کی گردن پر وار کرنے کو لپکا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے شکار کا کام تمام کرتا، دفتر کے دیگر عملہ جمع ہو گیا اور اس نے نوجوان کو قابو کر لیا۔ تاہم اتنا ضرور ہوا کہ اس دوران خنجر کا ایک وار ایڈیٹر کی گردن پر گہرا زخم کر چکا تھا۔ نوجوان نے ایڈیٹر پر مزید وار کرنے کے لئے اپنے آپ کو لوگوں کے چنگل سے چھڑانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ ایسا نہ کر سکا اور کچھ ہی دیر بعد اس کے ہاتھوں میں جرمن پولیس کے مسلح اہلکار ہتھکڑیاں ڈال رہے تھے۔

🌹🤲🌼🌸♥️

09/09/2025

......

*شہید ناموس رسالت غازی عامر عبد الرحمن چیمہ شہید رحمۃ اللّٰہ*

قسط نمبر 02

فیصل آباد میں قیام کے دوران بھی آپ کا کردار مثالی رہا۔
آپ کے ہم جماعت ہارون احمد خان (ٹیکسٹائل انجینئر) نے اپنے عظیم دوست کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا:

عامر انتہائی جی دار، محبت کرنے والا، مخلص اور صحیح معنوں میں یاروں کا یار تھا۔ عامر اللہ کے نبی ﷺ سے کچی محبت کرنے والا اور نبی ﷺ کے دشمنوں اور گستاخوں سے سخت نفرت کرنے والا تھا۔ وہ وعدہ کا پکا اور دوستوں کے مسائل حل کرنے کے لئے اپنی ذات کو نظر انداز کر دینے والا تھا۔

اور اب آپ کا ارادہ تھا کہ تدریسی شعبہ سے منسلک ہو جائیں۔
اس سلسلے میں آپ یونیورسٹی آف منجحت ٹیکسٹائل لاہور میں تدریس کے خواہش مند تھے۔ تاہم اس کے لیے چونکہ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کرنا ضروری تھا، لہٰذا آپ نے جرمنی کے شہر گاڈ باغ میں قائم فَہرن ہافَر یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز مشین میں داخلہ کے لیے درخواست بھیج دی۔ یہ درخواست کافی عرصہ تک بے جواب رہی۔ اس لیے آپ نے وقت کو استعمال کرنے کی خاطر ٹیکسٹائل انجینئرنگ کے شعبہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ اس سلسلے میں آپ کراچی قائد آباد میں واقع الکرم ٹیکسٹائل ملز میں بطور انجینئر ملازم رہے اور پھر کچھ عرصہ آپ نے لاہور میں بھی ملازمت کی۔ ملازمت کا یہ کل عرصہ تقریباً دو سال پر محیط رہا۔ لاہور میں ملازمت کے دوران ہی جرمنی سے یونیورسٹی کا جواب موصول ہوا کہ عامر چیمہ کی درخواست منظور کر کے انہیں داخلہ دے دیا گیا ہے۔ اس جواب کے موصول ہوتے ہی آپ نے جرمنی جانے کی تیاری شروع کر دی۔ پروفیسر نذیر چیمہ کہتے ہیں کہ عامر شہید، اگرچہ اس وقت ملازمت کر رہا تھا، لیکن وہ ان بکھیڑوں میں پڑنے کی بجائے تدریس کی لائن کو ترجیح دیتا تھا اور اس کا ارادہ یہی تھا کہ وہ تدریس کرے۔ چنانچہ درخواست کا جواب موصول ہوتے ہی عامر جرمنی روانہ ہو گئے۔ جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے پروفیسر صاحب موصوف نے یہ بھی بتایا کہ میں عامر کو یورپ یا امریکہ نہیں بھیجنا چاہتا تھا، کیونکہ مجھے اس کی جذباتی طبیعت اور یورپ کے ماحول کا بخوبی اندازہ تھا۔ لیکن چونکہ چین یا جاپان وغیرہ کی بجائے داخلہ جرمنی میں ملا، اس لیے میں نے بادل نخواستہ عامر کو جرمنی بھیج دیا۔

عامر چیمہ شہید ۲۰۰۴ء میں جرمنی پہنچے اور ماسٹر آف ٹیکسٹائل اینڈ کلوتھنگ مینجمنٹ کے کورس کے لیے داخلہ لیا۔ یہ کورس چھ چھ ماہ کے چار مرحلوں (سمیسٹرز) پر مشتمل ہے۔ عامر شہید نے کامیابی کے ساتھ دو سالہ کورس کے پہلے تین مراحل مکمل کیے اور چوتھا مرحلہ چل رہا تھا کہ آپ کی شہادت کا سانحہ پیش آ گیا۔ جولائی ۲۰۰۶ء میں آپ کی تعلیم مکمل ہونی تھی کہ اس سے پہلے ہی آپ دنیائے فانی کو چھوڑ کر حیاتِ جاودانی پا گئے۔

*خوب صورت، خوب سیرت*
گورا رنگ، وجیہہ چہرہ، باوقار شخصیت اور پاکیزہ فطرت کے حامل غازی عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ باطنی خوبیوں سے بھی مالا مال تھے۔ قدرت نے آپ کو بے پناہ اخلاقِ حسنہ سے نوازا اور اچھائیوں سے آراستہ و پیراستہ کیا تھا۔ یہ آپ کی بے شمار خوبیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج گھر اور محلے کا ہر فرد آپ کو بہترین الفاظ سے یاد کرتا نہیں تھکتا۔ آئیے شہیدِ ناموسِ رسالتؐ کی اخلاقی زندگی اور طور و اطوار کا ایک مختصر سا جائزہ لیں تا کہ اندازہ ہو سکے کہ قدرت اپنے منتخب بندوں کی ابتدا ہی سے کیسی بہترین پرورش کرتی ہے۔

عامر چیمہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت نماز کے معاملے میں آپ کا حد درجہ اہتمام تھا۔ آپ پانچ وقت کی نمازیں باقاعدگی سے مسجد میں حاضر ہو کر با جماعت ادا کرتے اور سنت و نوافل کا بھی اہتمام کرتے۔ آپ کی عادت تھی کہ جوں ہی نماز کا وقت ہو جاتا، آپ جہاں بھی ہوتے قریبی مسجد میں پہنچ جاتے اور پھر باجماعت نماز ادا کر کے ہی مسجد سے لوٹتے۔ بے شک نماز انسان کو ہیرا بنا دیتی ہے اور عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ واقعی اس فریضے کا اہتمام کر کے ہیرا بن گئے۔ رب کے حضور اہتمام اور باقاعدگی کے ساتھ سربسجود ہونے ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ کی زندگی کا ہر گوشہ روشن اور تاباں ہو گیا۔ آپ کے اخلاق حسین تر اور آپ کی عادتیں پاکیزہ ترین ہو گئیں۔ خود نماز کے اہتمام کے ساتھ ساتھ آپ دوسروں کو بھی نماز پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید کرتے۔ شہید کے تایا زاد بھائی غلام مرتضیٰ چیمہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کراچی میں ملازمت کے دوران عامر چیمہ جب بھی ان سے ملتے، انہیں نماز کی تلقین کرتے اور کہتے کہ کچھ بھی ہو جائے نماز ضرور پڑھا کرو، نماز ضرور پڑھا کرو۔

نماز کے بعد آپ کو سب سے زیادہ شغف کتابوں کے مطالعہ سے تھا۔ عربی کا ایک مقولہ ہے کہ اس دور میں کتاب بہترین ہم نشین ہے اور عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اس راز کو پا لیا۔ نماز اور دیگر ضروری کاموں کے علاوہ آپ کا وقت نصابی اور غیر نصابی کتب کے مطالعے میں گزرتا۔ پھر خاص طور پر دینی کتب کے مطالعہ کا آپ کو خاص شوق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مدرسہ میں باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود بھی عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ بہت سی دینی تعلیمات سے بخوبی واقف تھے اور اس نوعیت کے مطالعے نے آپ کے دل و دماغ کو دین کے نور سے روشن کر کے آپ کو عمل کا خوگر بنا دیا۔ آپ کے رشتہ دار کہتے ہیں کہ عامر کی دوستی کتابوں سے تھی، وہ ہمیشہ مطالعہ میں ہی منہمک پائے جاتے۔

کتابوں کو دوست بنا کر عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ باقی سب دوستیاں بھول گئے۔ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک آپ سینکڑوں ہم عمر نوجوانوں کے درمیان رہے، ان کے ساتھ رہن سہن اور رکھ رکھاؤ کا پورا پورا اہتمام رکھا لیکن باقاعدہ طور پر کسی سے آپ کی دوستی نہ رہی۔ ہر چھوٹے بڑے ملنے والے کے ساتھ آپ بہترین انداز میں خندۂ پیشانی سے پیش آتے لیکن کسی ہم عمر کے ساتھ بیٹھ کر فضول وقت ضائع کرنا یا بے معنی بات کرنا گویا کہ آپ کو آتا ہی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے جانے کے بعد پورے محلے میں کوئی ایک نوجوان بھی ایسا نہیں ہے جسے عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ کا قریبی دوست کہا جا سکے۔ مگر کوئی ایسا بھی نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ وہ کبھی میرے ساتھ روکھے سوکھے انداز میں پیش آئے۔

زیادہ وقت خاموش رہنا اور کم سے کم بولنا آپ کی طبیعت کا خاصہ تھا اور فضول بات کرنے سے تو آپ خاص طور پر احتراز کرتے۔ آپ کی عادت تھی کہ ہر بات کو اس کی تہہ تک پرکھتے اور اس میں خوب غور و خوض کرتے لیکن اس کے لیے بے معنی یا فضول گفتگو کرنا انہیں قطعی پسند نہ تھا۔ جب بھی کسی سے مخاطب ہوتے تو پہلے اس کی بات پوری طرح سنتے اور سمجھتے، پھر جب وہ اپنی بات پوری کر لیتا تو آپ اس کو جواب دیتے یا ضرورت کے بقدر سوال کرتے۔ ایک حدیثِ شریف میں وارد ہوا ہے کہ:

“بہترین انداز میں سوال کرنا آدھا علم ہے۔“
اور عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ اس کے مکمل طور پر مصداق تھے کہ آپ کا ہر سوال مختصر الفاظ میں جچا تلا اور بھرپور ہوتا۔

پروفیسر محمد نذیر چیمہ فرماتے ہیں کہ یہ بات حیرت انگیز ضرور ہے مگر بالکل سچ ہے کہ میرے بیٹے کو اس دور میں جیتے ہوئے بھی گالی دینا آتی ہی نہ تھی۔ اسے معلوم ہی نہ تھا کہ گالی کن الفاظ میں دی جاتی ہے؟ حالانکہ وہ آزاد منش نوجوانوں کے درمیان عرصہ دراز تک رہا اور پھر دورانِ ملازمت بھی یہ ایک طرح سے لازمی سی بات تھی۔

عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی بالکل ایسے گزاری جیسے کسی آدمی کے پاس وقت بہت کم ہو اور کام بہت زیادہ۔ شاید انہیں اندازہ تھا کہ بہت تھوڑے وقت کے لیے اس دنیا میں آئے ہیں اور بہت بڑا کام کر گزرنا ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کھیل کود میں کبھی بھی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ محلے میں گزرا ہوا بچپن ہو یا اسکول کالج کا زمانہ، وہ ہمیشہ کھیل کود سے دور رہے۔ محلے کے نوجوان بتاتے ہیں کہ عامر سالہا سال ہمارے درمیان سے گزرتے رہے، وہ ہمیں گلی ڈنڈا سے لے کر کرکٹ تک سب کچھ کھیلتے ہوئے دیکھتے، ہم کھیل میں مدہوش رہتے اور وہ ایک طرف مسکراتے ہوئے سلام کر کے خاموشی کے ساتھ گزر جاتے اور گھر میں داخل ہو جاتے، جہاں ان کی دوست کتابیں ان کی منتظر ہوتیں۔

عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خاص وصف یہ بھی تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی نگاہیں پست رکھتے۔ جاننے والے کہتے ہیں کہ عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ کو تو اوپر دیکھنا ہی نہیں آتا تھا۔ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ایک عزیز نے ان کی اس عادت کی مثال دیتے ہوئے کہا:

“آپ یوں سمجھ لیجئے کہ عامر گلی کے ایک نکڑ پر کھڑے ہیں اور دوسری کمر پر لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم ہے، عامر کو اس ہجوم کا اس وقت تک پتہ نہ چلے گا جب تک وہ اس کے بالکل قریب نہیں پہنچ جاتے اور لوگوں کی آوازیں ان کی سماعت سے نہیں ٹکرا جاتیں۔“

راہ میں انہیں چھوٹا ملے یا بڑا، وہ ہمیشہ اپنی نگاہ نیچی رکھ کر ملتے۔ یہ عادت اس قدر پختہ تھی کہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ نے بہت کم ملنے والوں کے چہروں کو دیکھا ہوگا۔
*جاری ہے ۔۔۔۔۔۔*
♥️🌸🌼🤲🌹

08/09/2025

۔۔۔۔۔۔۔

*شہید ناموسِ رسالت غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہید رحمہ اللہ*

قسط نمبر 01

ولادتِ باسعادت اور خاندانی پس منظر

۴ دسمبر ۱۹۷۷ء کو حافظ آباد میں ایک خوش قسمت بچے نے جنم لیا۔ والدِ محترم نے اپنے اس لختِ جگر کا نام عبدالرحمن اور والدہ محترمہ نے اپنے نورِ نظر کا نام عامر رکھا۔ تاہم بعد میں یہ بچہ عامر چیمہ کے نام سے مشہور ہوا۔ عامر کے والدِ محترم کا نام محمد نذیر ہے، اور آپ چیمہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ جناب محمد نذیر چیمہ کا آبائی تعلق وزیرآباد کے نواحی گاؤں ساروکی سے ہے، جبکہ آپ کی شادی حافظ آباد سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بیٹا محمد عامر چیمہ اور تین بیٹیاں عطا فرمائیں۔

جناب محمد نذیر چیمہ پیشے کے لحاظ سے شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں اور گورنمنٹ حشمت علی اسلامیہ کالج راولپنڈی میں چھبیس سال تک تدریسی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ اس ملازمت کا آغاز محمد عامر چیمہ کی ولادت سے ایک سال پہلے ہی ہو گیا تھا، اس لئے یہ گھرانہ مستقل طور پر راولپنڈی ہی میں آگیا، جہاں محترم نذیر صاحب کو کالج کی طرف سے رہائش مل چکی تھی۔

پروفیسر صاحب کے کالج کی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد اب یہ با سعادت خاندان مکان نمبر 45_2_319_DK ڈھوک کشمیریاں میں رہائش پذیر ہے۔ راولپنڈی شہر کے بیچوں بیچ سے گزرتی ہوئی مری روڈ کو جہاں سکسٹھ روڈ کراس کرتی ہے، وہیں مشرقی سمت میں اندر سروس روڈ ہے۔ اس روڈ پر گلی نمبر ۱۸ میں یہ مکان واقع ہے۔ اس گلی کو ٹیوب ویل والی گلی بھی کہا جاتا ہے۔

*تعلیمی مراحل*
محمد عامر چیمہ کی زندگی کا بیشتر حصہ اسی علاقے میں گزرا اور اپنے تعلیمی سفر کا آغاز بھی آپ نے یہیں سے کیا۔

پروفیسر محمد نذیر چیمہ صاحب چونکہ خود مذہب سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور اسلامی تعلیمات سے انہیں گہرا لگاؤ ہے، اس لئے انہوں نے اپنے فرزندِ ارجمند کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں بھی اپنے رجحان کا پورا پورا اظہار کیا۔ چنانچہ محمد عامر کو مستقل طور پر ابتدائی دینی تعلیم دی گئی اور آپ نے حشمت علی کالج کی مسجد ہی میں ناظرہ قرآنِ مجید مکمل کیا۔ ساتھ ہی عصری تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔

محمد عامر چیمہ نے اسکول کی پڑھائی گھر سے قریب ہی واقع گورنمنٹ پرائمری اسکول سے شروع کی۔ پھر جامعہ ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور میٹرک تک یہیں پڑھتے رہے۔ دورانِ تعلیم آپ کی قابلیت نمایاں رہی اور اساتذۂ کرام کی نظروں میں لائقِ توجہ رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہم سبق و ہم عصر طلبہ میں بھی بوجوہ ممتاز رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے ساتھ گزرے وقت اور بیتیں یادیں آج بھی آپ کے دوستوں کے دلوں میں محفوظ ہیں اور ایک عظیم شاگرد اور قابلِ فخر دوست کی ادائیں ان کی نگاہوں کے سامنے ہیں۔

راجہ ساجد ند، ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی کے رہائشی ہیں اور محمد عامر چیمہ کو بچپن سے جانتے ہیں۔ آپ نے محمد عامر چیمہ کے حوالے سے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا:

"میں عامر کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ ننھا سا پھول گورنمنٹ پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا۔ شروع سے ہی عامر چیمہ کم گو اور صاف گو تھا اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھا۔ اس کی شہادت تک اہلِ محلہ کو اس پر فخر رہا اور اس فخر کی لاج رکھتے ہوئے اس نے پورے عالمِ اسلام کے سر فخر سے بلند کر دیے۔ عامر ایک پرعزم اور باحوصلہ جوان تھے۔"

جناب محمد یحییٰ علوی صاحب نیک سیرت انسان ہیں اور گورنمنٹ جامع ہائی اسکول فار بوائز میں عرصہ دراز تک تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔ آپ کے تدریسی موضوعات عربی، اسلامیات اور اردو رہے ہیں۔ اسی اسکول میں عامر چیمہ شہید نے آپ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ محمد یحییٰ صاحب نے عامر شہید کے اس دور کے حوالے سے بتایا:

"عامر بہت ذہین اور سمجھدار بچہ تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ایسا ہوا ہو کہ وہ اسکول آیا ہو اور اس نے گھر کا دیا ہوا کام پورا نہ کیا ہو۔ وہ اکثر و بیشتر امتحانات میں اوّل یا دوم پوزیشن حاصل کرتا۔ اور اس تعلیمی قابلیت کی وجہ سے اسے باقی ہم جماعتوں کا نگران مقرر کیا گیا تھا۔ دسویں جماعت کا امتحان شاندار نمبروں سے پاس کر کے عامر نے وظیفہ بھی حاصل کیا۔"

۱۹۹۳ء میں دسویں جماعت نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کر کے عامر چیمہ شہید نے ایف۔ جی۔ سرسید کالج مری روڈ راولپنڈی میں داخلہ لیا اور وہاں بھی اپنی قابلیت و صلاحیت کا لوہا منوایا۔ اپنے ہم جماعتوں میں علمی و اخلاقی لحاظ سے فوقیت نے آپ کو ہمیشہ نمایاں اور ممتاز مقام دیا۔ نہ صرف ہم عمر طلبہ بلکہ اساتذۂ کرام بھی آپ کی صلاحیتوں کے جس طرح قائل رہے اس کا اندازہ آپ کے دو اساتذہ جناب پروفیسر عبداللہ خان نیازی اور جناب پروفیسر محمد صفدر (سابق پرنسپل ایف۔ جی۔ کالج سرسید اسکول راولپنڈی) کی طرف سے مشترکہ طور پر عامر شہید کو پیش کئے گئے خراجِ تحسین کے مندرجہ ذیل الفاظ سے بخوبی کیا جا سکتا ہے:

"عامر سرسید کالج میں ہمارا شاگرد تھا، دو سال ہمارے پاس گزارے لیکن اس میں کوئی بری عادت نہیں دیکھی۔ وہ خاموش طبیعت کا مالک تھا لیکن اس موقع پر اس نے جو کام کیا، وہ کئی مسلمانوں پر سبقت لے گیا۔ ہم کافی عرصے سے اس بات کو ترس رہے تھے کہ دیکھیں کون علم و دین کی راہ میں شہید ہو کر اپنی عاقبت سنوارتا ہے۔ عامر نے شہید ہو کر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ امتِ مسلمہ ابھی بانجھ نہیں ہوئی ہے۔ عامر کی روح تو یقینا جنت کے باغوں میں سیر کرتی ہوگی، بہر حال اس نے مسلمانوں کو جگا دیا ہے۔"

۱۹۹۵ء میں سرسید کالج راولپنڈی سے ایف۔ ایس۔ سی مکمل کرنے کے بعد عامر شہید بی۔ ایس۔ سی کے لئے نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ فیصل آباد چلے گئے۔ وہاں آپ نے بی۔ ایس۔ سی کا امتحان نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کیا۔

*جاری ہے ۔۔۔۔۔*
♥️🌹🤲🌼🌸

ایک لیکچر کے دوران پروفیسر نے اچانک ایک گلاس پانی اٹھایا اور خاموشی سے اوپر تھام لیا۔ طلباء خاموش ہو گئے، سب ایک دوسرے ک...
07/09/2025

ایک لیکچر کے دوران پروفیسر نے اچانک ایک گلاس پانی اٹھایا اور خاموشی سے اوپر تھام لیا۔ طلباء خاموش ہو گئے، سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ پروفیسر آخر کیا کہنا چاہتے ہیں۔ دس منٹ گزر گئے لیکن انہوں نے اب بھی ہاتھ نیچے نہ کیا۔

پھر وہ بولے:
“بتاؤ، یہ گلاس کتنا وزنی ہوگا؟”

طلباء نے اندازے لگائے:
“دو اونس!” “چار اونس!” “پانچ اونس!”

پروفیسر مسکرائے:
“شاید تم درست ہو، شاید غلط۔ اصل وزن جاننے کے لیے ہمیں ترازو چاہیے۔ مگر میرا سوال کچھ اور ہے۔ اگر میں اسے چند منٹ تھاموں تو کیا ہوگا؟”

“کچھ نہیں ہوگا،” طلباء نے جواب دیا۔

“صحیح۔ اور اگر میں ایک گھنٹہ اسے یوں ہی تھامے رکھوں تو؟”

“آپ کا بازو درد کرنے لگے گا،” ایک نے کہا۔

“بالکل۔ اور اگر پورا دن تھامے رکھوں تو؟”

“آپ کا بازو شل ہو جائے گا، شدید درد ہوگا، شاید ڈاکٹر کی ضرورت پڑے،” ایک اور نے کہا اور سب ہنسنے لگے۔

پروفیسر نے سکون سے کہا:
“بالکل درست۔ لیکن کیا اس دوران گلاس کا وزن بدلا؟”

“نہیں۔”

“تو پھر درد کیوں؟ کھچاؤ کیوں؟” کمرہ خاموش ہو گیا۔

پروفیسر نے نرمی سے کہا:
“اس کا جواب زندگی کے مسائل میں چھپا ہے۔ مسائل کا وزن وہی رہتا ہے، لیکن جتنا زیادہ ہم انہیں تھامے رکھتے ہیں، اتنا ہی وہ ہمیں توڑنے لگتے ہیں۔ درد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اب بھی زندہ ہیں، لیکن ایمان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم شفا پائیں گے۔”

انہوں نے آگے کہا:
“جب ہم زیادہ دیر تک مسائل کا بوجھ اٹھائے رکھتے ہیں تو یہ ہمیں کمزور کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھو، ہر درد جو تم سہتے ہو، وہ ایک قدم ہے اس قوت کی طرف جو خدا تمہارے اندر تعمیر کر رہا ہے۔”

کلاس پوری توجہ سے سن رہی تھی۔ پروفیسر نے گلاس کو ذرا ہلایا اور کہا:
“یہ سچ ہے کہ درد جسم کو توڑ سکتا ہے، لیکن اس روح کو کبھی نہیں توڑ سکتا جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتی ہے۔”

انہوں نے توقف کیا اور پھر مسکرا کر کہا:
“اکثر اوقات، تمہارا آج کا سب سے بڑا درد، کل تمہاری سب سے بڑی گواہی بن سکتا ہے۔ کیونکہ خدا کسی درد کو ضائع نہیں کرتا؛ وہ ہر دکھ کو تمہیں تراشنے، مضبوط کرنے اور اپنے قریب لانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔”

آخر میں پروفیسر نے گلاس میز پر رکھ دیا اور کہا:
“اسی لیے، اپنے مسائل کو دن کے اختتام پر ضرور نیچے رکھ دو۔ انہیں اپنے ساتھ بستر پر مت لے جاؤ۔ آرام کرو، تازہ دم ہو جاؤ۔ کیونکہ ایمان اور سکون تمہیں اگلے دن کے لیے نئی طاقت دیں گے۔”

07/09/2025

۔۔

*اسلام کے شیر حضرت حمزہؓ کے ایمان لانے کا واقعہ*

قریشِ مکہ عداوتِ نبوی میں دیوانے ہو رہے تھے۔ ایک روز آنحضرت ﷺ کوہِ صفا پر یا اس کے دامن میں بیٹھے تھے کہ ابوجہل اس طرف آن نکلا۔ اس نے آپ ﷺ کو دیکھ کر اول تو بہت سخت اور ناپسندیدہ الفاظ کہے۔ آپ ﷺ نے جب اس کی بیہودہ سرائی کا کوئی جواب نہ دیا تو اس نے ایک پتھر اٹھا کر مارا جس سے آپ زخمی ہوئے اور خون بہنے لگا۔ آپ خاموشی سے اپنے گھر چلے آئے۔ ابوجہل صحنِ کعبہ میں، جہاں لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، آ بیٹھا۔

حضرت امیر حمزہ بن عبدالمطلب آنحضرت ﷺ کے چچا تھے۔ ان کو آپ سے بہت محبت تھی مگر وہ ابھی تک شرک پر قائم اور مشرکوں کے شریکِ حال تھے۔ ان کی عادت تھی کہ تیر کمان لے کر صبح جنگل کی طرف نکل جاتے، دن بھر شکار مارتے اور شکار کی تلاش میں مصروف رہتے۔ شام کو واپس آکر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے، پھر اپنے گھر جاتے۔ وہ حسبِ معمول جب شکار سے واپس آئے تو اول راستے میں ابوجہل کی لونڈی ملی۔ اس نے ابوجہل کا آنحضرت ﷺ کو گالیاں دینا، پتھر مارنا اور آپ ﷺ کا صبر و شکر کے ساتھ خاموش رہنا سب بیان کر دیا۔

حضرت حمزہ آنحضرت ﷺ کے چچا ہونے کے علاوہ رضاعی بھائی بھی تھے۔ خون اور دودھ کے جوش نے ان کو ازخود رفتہ کر دیا۔ وہ اول خانۂ کعبہ میں گئے، وہاں طواف سے فارغ ہو کر سیدھے اس مجمع کی طرف متوجہ ہوئے جہاں ابوجہل بیٹھا ہوا باتیں کر رہا تھا۔ حضرت حمزہ بہت بڑے پہلوان، جنگجو اور عرب کے مشہور بہادروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے جاتے ہی ابوجہل کے سر پر اس زور سے کمان ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا، پھر کہا کہ میں بھی محمد ﷺ کے دین پر ہوں اور وہی کہتا ہوں جو وہ کہتے ہیں۔ اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو اب میرے سامنے بول۔

ابوجہل کے ساتھیوں کو غصہ آیا اور وہ اس کی حمایت میں اٹھے مگر ابوجہل حضرت حمزہ کی بہادری سے اس قدر متاثر و مرعوب تھا کہ اس نے خود ہی اپنے حمایتیوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ واقعی زیادتی مجھ ہی سے ہوئی تھی۔ اگر حمزہ مجھ سے اپنے بھتیجے کا انتقام نہ لیتے تو بے حمیت ہوتے۔ غالباً ابوجہل کو حضرت امیر حمزہ کا کلام سن کر یہ اندیشہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں یہ اس طیش و غضب کی وجہ سے ضد میں آکر مسلمان ہی نہ ہو جائیں اور اسی لئے اس نے ایسی بات حضرت حمزہ کو سنانے کے لئے کہی تاکہ بات یہیں ختم ہو جائے اور حمزہ اسلام کی طرف متوجہ نہ ہو سکیں۔

حضرت حمزہ ابوجہل کی مزاج پرسی کر کے آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہا: بھتیجے! تم یہ سن کر خوش ہوگے کہ میں نے ابوجہل سے تمہارا بدلہ لے لیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: چچا! میں ایسی باتوں سے خوش نہیں ہوا کرتا، ہاں آپ مسلمان ہو جائیں تو مجھ کو بڑی خوشی حاصل ہو۔ یہ سن کر حضرت حمزہ نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔

حضرت امیر حمزہ کے مسلمان ہونے سے مسلمانوں کی آفت رسیدہ جمعیت کو بڑی قوت اور امداد حاصل ہوئی۔ یہ نبوت کے چھٹے سال کا واقعہ ہے۔ اس وقت آنحضرت ﷺ دارِ ارقم میں تھے۔ قریشِ مکہ آنحضرت ﷺ کی شان میں بہت ہی گستاخ اور بے باک ہو گئے تھے۔ اب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے سے وہ کسی قدر محتاط اور مؤدب ہو گئے اور لوگ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنے میں کچھ تامل کرنے لگے۔
(تاریخِ اسلام، نجیب آبادی، ج ۱، ص ۹۲)

🌸🌼♥️🤲🌹

Address

Sheikhupura

Telephone

+923458885867

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سبق آموز کہانیاں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share