سبق آموز کہانیاں

سبق آموز کہانیاں Operate Digital Franchise with many online services
(1)

پینتیس جملے انسان نے مرنا گہری نیند سے سیکھا___آنسو غیر ارادی بد دعاٸیں ہیں ___زخم شاہکار بننے کا رف عمل ہوتے ہیں___انسا...
06/07/2026

پینتیس جملے

انسان نے مرنا گہری نیند سے سیکھا
___
آنسو غیر ارادی بد دعاٸیں ہیں
___
زخم شاہکار بننے کا رف عمل ہوتے ہیں
___
انسان اڑ نہیں سکتا اس لیے وہ رقص کرتا ہے
___
پاگل پن معاشرے کے خلاف احتجاج ہے اور بس
___
زندگی تمھارے گھنگھریالے بالوں کی طرح بیک وقت پیچیدہ اور خوبصورت ہے
___
جب بھاگنے والا لنگڑانے لگے زندگی صرف تبھی دُگنی رفتار سے بھاگنے لگتی ہے
___
میں نے دنیا کے بڑے بڑے شہر دیکھے ہیں
اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی بھی شہر ایک گود سے بڑا نہیں ہو سکتا
___
ہم زندگی سے بھاگ کر ماں کے پیچھے چھپ بھی نہیں سکتے
___
محبت کرنا پیدا ہونے کی غلطی کو ٹھیک کرنے کی کوشش ہے
___
محبت کوئی بندوق نہیں
مگر کچھ لوگ اسے تم پہ تان کر تمھارا سب کچھ
لوٹ لیتے ہیں
___
میرے لیے یہ پوری دنیا ایک انتظار گاہ ہے جہاں بیٹھ کر میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں
___
خوشی کے موقع پر بہنے والے آنسو کسی پچھلے دکھ کے ہوتے ہیں
___
‏کئی بار محبت ہمیں آسمان سے چھلانگ لگانے کا حوصلہ تو دے دیتی ہے مگر پر دینا بھول جاتی ہے
___
رقص فضا میں اپنی اداسیاں تحلیل کرنے کا عمل ہے
___
خودکشی خود کو زندہ رکھنے کی آخری کوشش ہے
___
زندگی کسی برے لطیفے کے بعد چہرے پر سجاٸی جعلی مسکراہٹ جیسی ہے
___
تمھیں دیکھنے کی جلدی میں دروازے میں انگلی کی بجاٸے میرا دل آ جاتا ہے
___
نیند کی گولیوں سے ہماری نیند تو پوری ہو گٸی مگر خواب ادھورے ہی رہے
___
انسان زندگی اور موت کے درمیان ہونے والی ٹاس کا سکہ ہے
___
تمھاری محبت پاوں میں آئی موچ تھی مگر میری محبت تا عمر رہنے والا لنگڑا پن ہے
___

سر ڈھ جاتے ہیں جب ان کے لیے کندھے نہ ہوں
___
جانے والے کا راستہ مت روکو ورنہ وہ تمھارے پار ہو کر جائے گا
___
مدتوں بعد لوٹنے والوں پر ان کے گھر کتوں کی طرح بھونکنا شروع کر دیتے ہیں
___
ہر روتا ہوا شخص اپنے کسی ارمان کی لاش کے سرہانے بیٹھی ایک ماں ہے
___
داڑھی اور بال بڑھا کر ہم سمجھتے ہیں اداسی ہمیں پہچان نہیں سکے گی
___
خزاں تمہارا خط ہے
جو تم نے مجھے "کیا تم آو گی؟"کے جواب میں لکھا ہے
___
میرا وجود کسی اندھی بڑھیا کی طرح تمھاری موجودگی کی لاٹھی ڈھونڈ رہا ہے
___
وہ اتنی خوب صورت تھی کہ میں بھول گیا میرا بھی کوئی وجود ہے
___
اس کی آنکھیں اس شہر جیسی ہیں جس کی روشنیوں میں گاؤں سے آیا ایک لڑکا کھو جاتا ہے
___
پیار ایک سفید خرگوش کی طرح قلانچیں بھرتا ہوا ہماری طرف بڑھتا ہے اور یکدم سے ایک بھیڑیے میں بدل کر ہم پر حملہ آور ہو جاتا ہے
___

جنہیں رونے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے وہ محبت کر لیتے ہیں اور محبت انہیں رونے کی بے شمار وجوہات دے دیتی ہے
___
اُداس لوگ زندگی کے خلاف اُٹھے ہوٸے بینرز ہیں
___
پیار میں ہونا نیند میں ہونا ہے اور نیند میں کسی کی جان بہ آسانی لی جا سکتی ہے
___
میں لوگوں کے درمیان خود کو بالکل ایک کاکروچ محسوس کرتا ہوں گویا جلد یا بہ دیر ان کی سوچ مجھے کچل دے گی
___
تمام ہنگاموں کے باوجود بھی دنیا میں اتنا شور نہیں کہ مجھے اپنے ٹوٹے ہوٸے دل کی کراہیں سناٸی دینا بند ہوں
___
ہم نے دلوں کی مرمت سے زیادہ وقت محلوں کی تعمیر میں لگا دیا سو ہماری آنکھوں کے سامنے بہت ترتیب اور آنکھوں کے اندر بہت سا انتشار ہے

06/07/2026

سب دوستاں نوں سجری سویر دا سلام ❤️🥀 اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کی زندگی میں آسانیاں پیدا فرمائے آمین 🌼

سراج الدولہ: وہ شخص جس کے وحشیانہ قتل کے بعد ہندوستان پر انگریزوں نے 180 سال تک راج کیانوٹ: آج سے تقریبا 266 سال قبل برص...
01/07/2026

سراج الدولہ: وہ شخص جس کے وحشیانہ قتل کے بعد ہندوستان پر انگریزوں نے 180 سال تک راج کیا

نوٹ: آج سے تقریبا 266 سال قبل برصغیر میں پلاسی کے مقام پر ہونے والی جنگ نے یہاں انگریزوں کے قبضے کی راہ ہموار کی تھی لیکن صدیوں بعد بھی اس جنگ میں شامل کرداروں کی بازگشت اس خطے کی سیاست میں سنائی دیتی ہے۔ اس ضمن میں آج یہ تحریر دوبارہ پیش کی جا رہی ہے۔

23 جون 1757 کو پلاسی کی جنگ ہارنے کے بعد سراج الدولہ اونٹ پر بھاگ نکلے اور طلوع آفتاب کے ساتھ ہی مرشد آباد پہنچے۔ اگلے ہی دن رابرٹ کلائیو نے میر جعفر کو ایک نوٹ بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ ’میں آپ کو اس فتح پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ فتح میری نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو نواب بنانے کا اعلان کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہوگا۔‘

اس سے پہلے صبح سویرے گھبراہٹ اور تھکاوٹ کا شکار لگنے والے میر جعفر برطانوی کیمپ میں اپنی موجودگی درج کر رہے تھے تو برطانوی فوجی انھیں کرنل کلائیو کے خیمے میں لے گئے۔

کلائیو نے میر جعفر کو مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر دارالحکومت مرشد آباد کی طرف کوچ کر جائیں اور اس پر قبضہ کر لیں۔ انھوں نے آگاہ کیا کہ میر جعفر کے ساتھ اُن کے کرنل واٹس بھی جائیں گے۔
کلائیو مرکزی فوج کے ساتھ ان کے پیچھے آ گئے اور انھیں مرشد آباد تک پہنچنے میں تین دن لگے۔ راستے میں سڑکوں پر چھوڑی گئی توپیں، ٹوٹی ہوئی گاڑیاں اور سراج الدولہ کے سپاہیوں اور گھوڑوں کی لاشیں ملیں۔

سر پینڈرل مون اپنی کتاب ’دا برٹش کونکویسٹ اینڈ ڈومینین ان انڈیا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اگرچہ کلائیو کو 27 جون کو مرشد آباد پہنچنا تھا لیکن جگت سیٹھ نے انھیں متنبہ کیا کہ ان کو مارنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، لہذا 29 جون کو کلائیو شہر میں داخل ہوئے۔ میر جعفر نے شہر کے اہم داخلی دروازے پر ان کا استقبال کیا۔ یہ رابرٹ کلائیو ہی تھے جنھوں نے میر جعفر کو تخت پر بٹھایا اور انھیں سلامی دی۔ پھر انھوں نے اعلان کیا کہ کمپنی میر جعفر کے اقتدار میں کسی بھی طرح مداخلت نہیں کرے گی اور صرف تجارتی معاملات پر نگاہ رکھے گی۔‘

کلائیو راتوں رات یورپ کے امیر ترین شخص بن گئے
کلائیو کو سراج الدولہ کے خزانے سے پانچ کروڑ روپے ملے جو ان کی توقع سے کم تھے۔

مشہور مورخ ولیم ڈار لمپل اپنی کتاب ’انارکی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اس فتح کے لیے کلائیو کو ذاتی طور پر 34 ہزار پاؤنڈ کی رقم ملنے جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ وہ اس جاگیر کے مالک بھی بننے والے تھے جو سالانہ 27 ہزار پاؤنڈ کما کر دینے والی تھی۔ اگر انھیں ساری رقم مل جاتی تو رابرٹ کلائیو اچانک 33 سال کی عمر میں یورپ کے سب سے امیر لوگوں میں شامل ہونے والے تھے۔

اگلے کچھ دن بہت تناؤ میں گزرے۔ کلائیو کو خوف تھا کہ میر جعفر اپنے وعدے سے مُکر نہ جائیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو اسی طرح عذاب دینے کی کوشش کر رہے تھے جیسے دو بڑے غنڈے بڑی لوٹ مار کے بعد اس کو بانٹنے کے لیے بیٹھ گئے ہیں۔

سراج الدولہ صبح تین بجے چھپ کر بھاگ گئے
جب کلائیو اس لوٹ مار میں سے اپنا حصہ لینے کے منتظر تھے تو میر جعفر کے بیٹے میران نے سراج الدولہ کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جو بنگال کے دارالحکومت سے فرار ہو چکے تھے۔

مشہور مورخ سید غلام حسین خان نے اپنی فارسی زبان میں لکھی گئی کتاب ’سیار المتاخری‘ میں لکھا ہے کہ ’سراج الدولہ عام لوگوں کا لباس پہن کر بھاگے تھے۔ اس کے ہمراہ ان کے قریبی رشتے دار اور بعض خواجہ سرا بھی تھے۔ صبح تین بجے انھوں نے اپنی اہلیہ لطف النسا اور بعض قریبی رشتہ داروں کو احاطہ دار گاڑیوں میں بیٹھا دیا، جتنا سونا اور زیورات اپنے ساتھ لے سکے اپنے ساتھ لے گئے اور محل چھوڑ کر بھاگ نکلے۔‘

وہ پہلے بھاگوان گولہ گئے اور پھر دو دن بعد کئی کشتیاں بدل کر محل کے کنارے پر پہنچے۔ یہاں وہ کچھ کھانا کھانے کے لیے ٹھہرے۔ انھوں نے کھچڑی بنوائی، وہ اس لیے کی کہ انھوں نے اور ان کے ساتھ سفر کرنے والے لوگوں نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
فقیر کی مخبری اور گرفتاری

اسی علاقے کے ایک فقیر شاہ دانا نے مخبری کرتے ہوئے سراج الدولہ کے دشمنوں کو اُن کے وہاں پہنچنے کی خبر دے دی۔ وہ دشمن جو انھیں ڈھونڈنے کے لیے دن رات ایک کر رہے تھے۔ یہ خبر ملتے ہی میر جعفر کے داماد میر قاسم نے دریا عبور کیا اور سراج الدولہ کو اپنے مسلح افراد کے ساتھ گھیر لیا۔

سراج الدولہ کو 2 جولائی 1757 کو گرفتار کر کے مرشد آباد لایا گیا۔ اس وقت رابرٹ کلائیو مرشد آباد میں موجود تھے۔ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی انھوں نے فورٹ ولیم میں اپنے ساتھیوں کو خط لکھ دیے تھے۔

اس میں سے ایک خط میں انھوں نے لکھا کہ ’مجھے امید ہے کہ میر جعفر نواب کو تخت سے ہٹائے گئے نواب کے ساتھ اسی محبت کا اظہار کریں گے جو ان حالات میں ممکن ہے۔‘

دو دن بعد انھوں نے ایک اور خط لکھا جس میں انھوں نے کہا کہ ’سراج الدولہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ نواب میر جعفر نے شاید ان کو بچا لیا ہوتا لیکن ان کے بیٹے میران نے سوچا کہ ملک میں امن کے لیے سراج الدولہ کو مرنا ہو گا۔ انھیں کل صبح خوش باغ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔‘

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے رابرٹ اورمے نے اپنی کتاب ’ہسٹری آف ملٹری ٹرانزیکشن آف دی برٹش نیشن ان ہندوستان‘ میں لکھتے ہیں کہ ’تخت بدر نواب کو آدھی رات کو اسی محل میں میر جعفر کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں کچھ دن پہلے تک وہ رہا کرتے تھے۔ سراج نے میر جعفر کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے، کانپتے ہوئے اپنی جان کی امان مانگی۔ اس کے بعد سپاہی ان کو محل کے ایک دوسرے کونے میں لے گئے۔‘

اسی دوران میر جعفر اپنے درباریوں اور اہلکاروں سے یہ مشورہ کرتے رہے کہ سراج الدولہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس کے پاس تین متبادل راستے تھے۔ یا تو سراج الدولہ کو مرشد آباد میں قید کر دیا جائے یا ملک سے باہر قید کیا جائے یا پھر انھیں سزائے موت دے دی جائے۔

بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ سراج کو جیل میں زندہ رکھنا چاہیے۔ لیکن میر جعفر کا 17 سالہ بیٹا میران اس کے سخت خلاف تھا۔ اس پورے معاملے میں جعفر کی اپنی نہ تو کوئی رائے تھی اور نہ ہی کوئی دخل۔

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’پلاسی دا بیٹل: دیٹ چینجڈ دا کورس آف انڈین ہسٹری‘ کے مصنف سدیپ چکرورتی لکھتے ہیں کہ ’میران نے اپنے والد کی خاموشی کو ان کی رضامندی سمجھا۔ اس نے اپنے والد سے کہا کہ آپ آرام کریں، میں ان کو سنبھال لوں گا۔ میر جعفر نے سمجھا کہ کوئی تشدد نہیں ہو گا۔ انھوں نے دیر رات تک لگنے والے اپنے دربار کو بند کیا اور اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گئے۔‘

تلواروں اور خنجروں سے مارا گیا

سید غلام حسین خان لکھتے ہیں کہ ’میران نے اپنے ایک ساتھی محمدی بیگ، جس کا دوسرا نام لال محمد بھی تھا، کو سراج الدولہ کو مارنے کا حکم دیا۔ جب میران اپنے ساتھیوں کے ساتھ سراج الدولہ کے پاس پہنچا تو سراج کو اندازہ ہوا کہ اُس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

اس نے التجا کی کہ اسے مارنے سے پہلے اسے وضو کرنے اور نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔

اپنا کام جلد ختم کرنے لیے قاتلوں نے سراج کے سر پر پانی سے بھرا برتن اونڈیل دیا۔ جب سراج الدولہ کو احساس ہوا کہ انھیں سکون نے وضو نہیں کرنے دیا جائے گا تو انھوں نے کہا کہ اسے پیاس بجھانے کے لیے پانی پلایا جائے۔

رابرٹ اورمے لکھتے ہیں کہ ’پھر تبھی اچانک محمدی بیگ نے سراج الدولہ پر خنجر سے حملہ کیا۔ جیسے ہی خنجر نے اپنا کام کیا دوسروں نے اپنی تلواریں سونت لیں اور وہ سراج الدولہ پر پِل پڑے، وہ منھ کے بل گر پڑے۔‘
لاش کو ہاتھی پر رکھ کر گھمایا گیا
اگلے دن سراج الدولہ کی مسخ شدہ لاش کو ہاتھی کی کمر پر لاد دیا گیا اور مرشد آباد کی گلیوں اور بازاروں میں گھومایا گیا۔ یہ ان کی شکست کا سب سے بڑا ثبوت تھا۔

سید غلام حسین خان اس بربریت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’اس درندگی کے سفر کے دوران اس ہاتھی کے مہاوت نے جان بوجھ کر حسین قلی خان کے گھر کے سامنے ہاتھی کو روکا۔ دو سال قبل اسی حسین قلی خان کو سراج الدولہ نے قتل کروا دیا تھا۔ یہاں پر سراج الدولہ کی لاش سے خون کے کچھ قطرے اسی جگہ گرے جہاں قلی خان کا قتل کیا گیا تھا۔‘

لطف النسا کا میر جعفر سے شادی سے انکار

کرم علی نے ’دا مظفر ناما آف کرم علی‘ میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’تقریبا 70 بے گناہ بیگموں کو ایک کشتی میں بیٹھا کر دریائے ہوگلی کے وسط میں لے جایا گیا تھا اور کشتی کو وہاں ڈبو دیا گیا۔‘ سراج الدولہ خاندان کی باقی خواتین کو زہر دے کر ہلاک کر دیا گیا۔ انھیں زیر آب مار دی جانے والی خواتین کے ساتھ دریائے ہگلی کے قریب ہی خوش باغ نامی باغ میں دفن کر دیا گیا۔‘

صرف ایک عورت کی جان بخشی گئی۔ یہ سراج الدولہ کی بہت خوبصورت اہلیہ تھیں۔ میران اور اس کے والد میر جعفر دونوں نے انھیں شادی کا پیغام بھیجا۔

میر جعفر کا زوال

پلاسی کی جنگ جیتنے کے ایک سال کے اندر ہی میر جعفر کا جلوہ کم ہونے لگا۔

کچھ عرصہ قبل تک میر جعفر کی وکالت کرنے والے کلائیو نے انھیں ’دی اولڈ فول‘ یعنی بیوقوف بوڑھا اور ان کے بیٹے میران کو ’دا ورتھ لیس ینگ ڈاگ‘ یعنی ایک بیکار نوجوان کتا قرار دیا۔

سستی، نااہلی اور افیون نے میر جعفر کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔

11 نومبر 1758 کو کلائیو نے جان پین کو ایک خط لکھ کر کہا تھا جس شخص کو ہم نے تخت پر بٹھایا وہ مغرور، لالچی اور بات بات پر گالی دینے والا شخص بن گیا ہے۔ اپنے اس رویہ کی وجہ سے وہ اپنے عوام کے دلوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔‘

کلائیو کے انگلینڈ واپس آنے سے پہلے میر جعفر اپنی فوج کے 13 ماہ کے باقی کرائے کی صرف تین قسطیں ہی ادا کر پائے تھے۔ تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کے فوجی بغاوت کے موڈ میں آ گئے تھے۔

سر پینڈیرل مون اپنی کتاب ’وارین ہیسٹنگس اینڈ برٹش انڈیا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’میر جعفر کے فوجیوں کی گھوڑے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے تھے۔ ان پر سواری کرنے والے ان سے تھوڑے سے ہی بہتر تھے۔ یہاں تک کہ اس کے افسر بھی پھٹے پرانے کپڑے پہن رہے تھے۔

پلاسی کی لڑائی کے تین سال کے اندر ہی اندر انڈیا کے سب سے امیر شہروں میں ایک مرشد آباد غریبی کی دہلیز پر آن کھڑا ہوا تھا۔

میر جعفر نے بنگال کو برباد کر دیا

اس بربادی کے لیے بہت حد تک خود میر جعفر ذمہ دار تھے۔
غلام حسین خان لکھتے ہیں کہ ’میر جعفر ہمیشہ مہنگے جواہرات پہننا پسند کرتے تھے۔ لیکن نواب بنتے ہی انھوں نے ایک ہی کلائی میں مختلف جواہرات سے بنی چھ، سات بریسلیٹ پہننا شروع کر دیں۔ اس کے گلے میں تین چار لڑیوں کی مالا لٹکی رہتی تھی۔ اس کا سارا وقت موسیقی سننے اور خواتین کا رقص دیکھنے میں صرف ہوتا تھا۔‘

کچھ ہی دن میں یہ واضح ہو گیا تھا کہ میر جعفر میں بنگال پر حکمرانی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ وہ ایک ان پڑھ عرب سپاہی کی طرح تھے جن کا راج پاٹ سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔

سر پینڈرل اپنی کتاب ’دا برٹش کونکویسٹ اینڈ ڈومینین آف انڈیا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’کلائیو نے خود انگلینڈ جانے والے جہاز پر سوار ہونے سے پہلے کہا تھا کہ میر جعفر میں حکمرانی کا دم نہیں ہے۔ ان میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی محبت اور ان کا اعتماد حاصل کر سکیں۔ ان کے بدانتظامی نے بنگال کو انتشار کی طرف دھکیل دیا ہے۔‘

میران نے 300 سے زائد افراد کی جان لی

دوسری جانب ان کے بیٹے میران کا ہمددری اور رحم دلی سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا۔ ان کی سب سے بڑی تشویش یہ تھی کہ کیسے علی وردی خان کے بقیہ کنبے کو ختم کیا جائے تاکہ مستقبل میں بغاوت کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔

غلام حسین خان لکھتے ہیں کہ ’علی وردی خان کے پورے حرم کو دریا میں ڈبونے کے بعد اس کی توجہ سراج الدولہ کے پانچ قریبی رشتہ داروں پر مرکوز ہو گئی۔ اس نے سراج الدولہ کے چھوٹے بھائی مرزا مہدی کو لکڑی کے دو تختوں کے درمیان رکھ کر پسوا دیا۔ بعد میں میران نے اس قتل کو سعدی کی کہاوت کو دہراتے ہوئے جائز قرار دیا کہ سانپ کو مارنے کے بعد اس کے بچے کو چھوڑنا کوئی دانشمندانہ بات نہیں ہے۔‘

دوسرے حریفوں اور سابق انتظامیہ کے اہم اہلکاروں کو میران نے دربار کے اہم دروازے پر اپنے ہاتھوں سے چھرا گھونپ کر ہلاک کیا یا انھیں زہر پلوا دیا۔

غلام حسین خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’میران سراج الدولہ کے خاندان کے مارے گئے لوگوں کی ایک فہرست رکھتا تھا اور اسے ایک خاص نوٹ بک میں اپنی جیب میں رکھتا تھا۔ جلد ہی اس فہرست میں مرنے والوں کی تعداد 300 ہو گئی۔‘

جب وارن ہیسٹنگز نے سراج خاندان کے لوگوں کے قتل کے بارے میں سنا تو اس نے کلکتہ بھیجی جانے والی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’کوئی بھی دلیل اس ولن کے کرتوتوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی ہے۔ مجھے یہ کہنے کے لیے معاف کیا جائے کہ ایسے شخص کی ہماری حمایت کسی بھی طرح سے جائز نہیں ہو سکتی۔‘

یہ تحریر پہلی مرتبہ تین جولائی 2020 کو بی بی سی اردو نیوز میں شائع ہوئی تھی، جسے آج دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔

29/06/2026

شہر میں شدید گرمی تھی۔ سڑکیں تپ رہی تھیں، درجۂ حرارت اتنا زیادہ تھا کہ لوگ چند منٹ بھی دھوپ میں کھڑے نہیں ہو پا رہے تھے۔

سلمان روز دفتر جاتے ہوئے دیکھتا کہ ٹریفک پولیس والے، مزدور، رکشہ چلانے والے اور ڈیلیوری بوائز اسی گرمی میں اپنا رزق کما رہے ہیں۔

ایک دن اس نے سوچا "میں پورا شہر تو نہیں بدل سکتا، لیکن کسی ایک انسان کی تکلیف ضرور کم کر سکتا ہوں۔"

اگلے دن وہ گھر سے ٹھنڈے پانی کی بوتلیں اور چند جوس کے ڈبے لے آیا۔

جو بھی پیاسا نظر آتا، وہ مسکرا کر کہتا "بھائی! پہلے پانی پی لیں۔"

کچھ لوگ حیران ہوئے، کچھ نے دعائیں دیں، اور کچھ کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو آ گئے۔

ایک مزدور نے پانی پینے کے بعد کہا "بھائی! آج صبح سے کسی نے ہمارا حال نہیں پوچھا تھا۔ آپ نے پانی سے زیادہ عزت دی ہے۔"

سلمان مسکرا کر اپنے کام پر چلا گیا۔شام کو اس کے بیٹے نے پوچھا
"ابو! آپ نے اتنا خرچہ کیوں کیا؟"

سلمان نے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر کہا "بیٹا! اللہ نے ہمیں نعمتیں صرف اپنے لیے نہیں دیں، بلکہ دوسروں کی ضرورت کے وقت کام آنے کے لیے دی ہیں۔

اس دن سلمان کے بیٹے نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ ہر گرمی میں اپنی استطاعت کے مطابق کسی نہ کسی کی مدد ضرور کرے گا۔

29/06/2026

سب دوستاں نوں سجری سویر دا سلام ❤️🥀 اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کی ہر مشکل آسان فرمائے آمین 🌼

آج ہر طرف لوگ چیخیں مار رہے ہیں سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی ہو گئی پانچ سالہ بچی سے زیادتی ہو گئیاور پھر سی سی ڈی کے ہات...
27/06/2026

آج ہر طرف لوگ چیخیں مار رہے ہیں سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی ہو گئی پانچ سالہ بچی سے زیادتی ہو گئی

اور پھر سی سی ڈی کے ہاتھوں مجرم کے مارے جانے پہ بغلیں بجائی جاتی ہیں کہ بہت اچھا ہوا کتے کی موت مارا گیا۔۔

سوال اتنا ہے کہ ہمارا معاشرہ اس طرف گیا کیوں۔۔؟

اصل وجہ یہ ہے کہ ہمیں قرآن نے بتایا تھا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان نے بتایا تھا
کہ یہ تمہاری ماں ہے یہ بہن ہے یہ خالہ ہے یہ حرمت تو قرآن نے بیان کی تھی
اب قرآن کو (بائی چوائس سمجھ کہ) اٹھا کہ اتنا اوپر غلاف میں لپیٹ کہ رکھ دیا جہاں تک کسی کا غلطی سے بھی ہاتھ نا لگ جائے۔۔

اور پھر ہاتھ میں پکڑا دیئے موبائل اب جس نوجوان کی عمر 18 سے 28 سال کے درمیان ہے وہ جانتے ہیں کہ

جب فحاشی کے مناظر دیکھتے ہیں تو کیسے جزبات بھڑکتے ہیں
انسان انسان نہی رہتا جانور بن جاتا ہے دنیا کا سب سے خطرناک نشہ شہوت کا ہے
جب انسان پہ شہوت کا بھوت سوار ہو جائے تو جیسے بکرے کو پتہ نہی چلتا کہ سامنے اسکی ماں کھڑی ہے یا بہن

اسی طرح جب انسان شہوت کے ہاتھوں حیوان بن جائے تو اسکو نہی پتہ چلتا کہ سامنے پانچ سالہ بچی کھڑی ہے یا سو سالہ عورت
اور فحاشی کے سیلاب پہ کنٹرول نا کیا گیا تو بلکل سامنے صاف نظر آرہاہے
کہ آنے والے 15 سے 20 سال بعد بھائی کے ہاتھوں بہنوں کی عزتیں بھی محفوظ نہی رہنی

اس لیئے اس قوم کو اگر حیوان سے انسان بنانا ہے تو انکو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھانی پڑے گی

*فتح مکہ* ۔ جب نبی ﷺ نے تمام مکہ والوں کو عام معافی دی تھی۔

*وہ جملہ کون سا تھا؟*
آپ ﷺ نے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر قریش سے پوچھا:
*"مَا تَظُنُّونَ أَنِّي فَاعِلٌ بِكُمْ؟"*
"تم کیا گمان رکھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟"

قریش نے کہا: _"أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ"_
"آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں"

تب آپ ﷺ نے وہ تاریخی جملہ فرمایا:
*"اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ"*
"جاؤ، تم سب آزاد ہو"

*مکمل قصہ مختصراً:*

1. *پس منظر*: 8 ہجری میں مسلمانوں کا لشکر 10 ہزار صحابہ کے ساتھ بغیر خون خرابے کے مکہ میں داخل ہوا۔ قریش نے 21 سال تک آپ ﷺ کو ستایا، جنگیں لڑیں، صحابہ کو شہید کیا۔

2. *معافی*: مکہ فتح ہونے کے بعد آپ ﷺ نے کعبہ کا طواف کیا، بت توڑے۔ پھر کعبہ کے دروازے پر وہی قریش جمع تھے جنہوں نے آپ کو مکہ سے نکالا تھا۔

3. *یوسف علیہ السلام والی مثال*: آپ ﷺ نے ان سے وہی کہا جو حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا۔ یعنی بدلہ نہیں، معافی۔

4. *نتیجہ*: اس ایک جملے "اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ" سے ہزاروں دشمن ایک دن میں دوست بن گئے۔ ابوسفیان، ہندہ، عکرمہ بن ابی جہل سب نے اسلام قبول کر لیا۔

اس لیے اس دن کو "یوم الرحمۃ" بھی کہتے ہیں۔

*حوالہ*: سیرت ابن ہشام، صحیح بخاری، صحیح مسلم میں فتح مکہ کا یہ واقعہ تفصیل سے ہے۔
کہنے مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اصولوں کے مطابق سزا سنائیں جائیں
سب سے پہلے تحقیق ہونی چاہیئے کہ کون ہے اور کیوں زیادتی کی کیا یہ اکیلا تھا یا اسکے ساتھ اور بھی ہیں ایک شخص کو قتل کر کہ اب پورے پاکستان سے درندوں کا خاتمہ ہوگیا کیا یا اور بھی بھیڑیے چھپے ہیں جو اندھیرے میں نکل کھڑا ہوتے ہیں

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھائے بغیر ایسی ایک سو اور سی سی ڈی بنا دیں
ہزاروں مجرم قتل کر دیں لیکن اس شہوت زدہ معاشرت کو تمہارا باپ بھی سیدھا نہی کر سکتا۔۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے کنویں سے کتا نکالے بغیر پانی نکالتے رہنا۔۔
اس طرح کنواں کبھی پاک نہی ہو گا
یہ میری ذاتی رائے ہے شاید اپ اس بات سے اتفاق کریں یا نہ واللہ اعلم .....

©سبق آموز کہانیاں ✍🏻
#القرآن #تعلیمات #اسلام

ٹارزن اور پریوں کا جزیرہافریقہ کے گھنے اور تاریک جنگلات میں جہاں سورج کی شعاعیں بھی زمین کو چھونے سے کتراتی تھیں، وہاں ک...
24/06/2026

ٹارزن اور پریوں کا جزیرہ

افریقہ کے گھنے اور تاریک جنگلات میں جہاں سورج کی شعاعیں بھی زمین کو چھونے سے کتراتی تھیں، وہاں کا بے تاج بادشاہ "ٹارزن" اپنی پرسکون زندگی گزار رہا تھا۔ وہ درختوں کی بلند شاخوں پر چیتے کی طرح چستی سے چھلانگیں لگاتا، جانوروں کی زبان سمجھتا اور جنگل کے قوانین کا پاسبان تھا۔ لیکن قدرت کو اس کی زندگی میں ایک نیا اور خطرناک موڑ لانا منظور تھا۔
ایک شام، جب آسمان پر شفق کے سرخ اور نارنجی رنگ بکھرے ہوئے تھے، ٹارزن ساحلِ سمندر کے قریب ایک اونچی چٹان پر بیٹھا لہروں کا شور سن رہا تھا۔ اچانک اس کی تیز عقابی نظروں نے دور سمندر میں ایک عجیب و غریب منظر دیکھا۔ ایک چھوٹی سی کشتی، جس پر کوئی ملاح نظر نہیں آ رہا تھا، تیز لہروں کے تھپیڑے کھاتی ہوئی ساحل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ٹارزن نے اپنی کمر سے بندھا ہوا چاقو سنبھالا اور چٹان سے نیچے اتر آیا۔
جب کشتی ساحل کی ریت سے آ ٹکرائی، تو ٹارزن نے اس کے اندر جھانکا۔ کشتی خالی تھی، لیکن اس کے تختے پر خون کے کچھ تازہ دباؤ تھے اور ایک پرانے چمڑے کے نقشے پر ایک خنجر پیوست تھا۔ ٹارزن نے خنجر نکالا اور نقشے کو کھول کر دیکھا۔ اس نقشے پر ایک ایسے جزیرے کا نشان تھا جس کے گرد عجیب و غریب لکیریں بنی ہوئی تھیں اور نیچے قدیم زبان میں کچھ لکھا تھا، جسے ٹارزن اپنی ذہانت سے جزوی طور پر سمجھنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہاں لکھا تھا: **"جزیرہِ پریان... جہاں موت پرندے کے روپ میں اڑتی ہے اور انسانوں کا داخلہ ممنوع ہے۔"**
ٹارزن کے دل میں تجسس کی چنگاری بھڑک اٹھی۔ وہ خطروں سے کھیلنے کا عادی تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس راز کی تہہ تک پہنچ کر رہے گا۔ اس نے کشتی کا معائنہ کیا، وہ مضبوط تھی اور اس میں چپو بھی موجود تھے۔ ٹارزن نے جنگل سے کچھ پھل اور پینے کا پانی جمع کیا، انہیں کشتی میں رکھا اور رات کے اندھیرے میں سمندر کے پراسرار سفر پر روانہ ہو گیا۔
سمندر کا سفر جتنا پرسکون شروع ہوا تھا، تیسرے دن وہ اتنا ہی ہولناک ہو گیا۔ آسمان پر کالی گھٹائیں ٹپک پڑیں اور سمندر کی لہریں پہاڑوں کی طرح بلند ہونے لگیں۔ ٹارزن نے اپنی پوری طاقت سے کشتی کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن قدرت کے اس قہر کے سامنے ایک انسان کی بساط ہی کیا تھی۔ ایک زوردار لہر کشتی سے ٹکرائی اور اس کے پرخچے اڑ گئے۔ ٹارزن گہرے اور سرد پانی میں جا گرا۔
وہ گھنٹوں لہروں سے لڑتا رہا۔ جب اس کی ہمت جواب دینے لگی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا، تو اسے لگا کہ کوئی نرم اور خوشبودار ہوا اسے پانی کے اوپر اٹھا رہی ہے۔ اس نے نیم وا آنکھوں سے دیکھا کہ آسمان سے کچھ چمکدار مخلوقات، جن کے پیٹھ پر خوبصورت پر تھے، نیچے اتر رہی ہیں۔ وہ پریاں تھیں! انہوں نے ٹارزن کو ڈوبنے سے بچایا اور اسے ایک ہوش ربا جزیرے کے ساحل پر پہنچا دیا۔
جب ٹارزن کو ہوش آیا، تو وہ ایک دلفریب ساحل پر لیٹا ہوا تھا۔ وہاں کی ریت عام ریت کی طرح نہ تھی، بلکہ وہ سونے کی مانند چمک رہی تھی۔ ہوا میں پھولوں کی ایسی مسحور کن خوشبو تھی جو ٹارزن نے افریقہ کے کسی جنگل میں کبھی نہیں سونگھی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنی طاقت کا جائزہ لیا۔ اس کا چاقو اب بھی اس کی کمر سے بندھا ہوا تھا، جو اس کا سب سے وفادار ساتھی تھا۔
ٹارزن ابھی جزیرے کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اسے ریت پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ وہ فوراً ایک گھنے درخت کے پیچھے چھپ گیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک انتہائی خوبصورت دوشیزہ، جس کے ریشمی بال ہوا میں اڑ رہے تھے اور اس کی پیٹھ پر تتلی جیسے نازک پر تھے، دوڑتی ہوئی آ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر شدید خوف اور بے بسی کے تاثرات تھے۔
اس کے پیچھے ایک خوفناک آواز گونجی۔ وہ کسی پرندے کی چیخ اور انسان کے غراٹے کا مرکب تھی۔ درخت کے پیچھے سے ٹارزن نے دیکھا کہ ایک عجیب و غریب اور خوفناک مخلوق اس پری کا پیچھا کر رہی تھی۔ اس مخلوق کا دھڑ انسانوں جیسا اور مضبوط تھا، جس پر گھنے بھورے بال تھے، لیکن اس کا سر ایک خونخوار عقاب جیسا تھا جس پر نیلے رنگ کا قدرتی ہیلمٹ نما تاج بنا ہوا تھا اور اس کی چونچ لوہے کی طرح سخت اور تیز تھی۔ اس نے ہاتھوں میں ایک خنجر تھام رکھا تھا اور پیروں میں سبز رنگ کی زرہ پہن رکھی تھی۔
پری بھاگتے ہوئے لڑکھڑا کر ریت پر گر پڑی۔ پرندے نما جلاد نے اپنی تیز چونچ کھولی اور پری پر وار کرنے کے لیے خنجر اٹھایا۔ پری نے خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
لیکن اس سے پہلے کہ وہ جلاد اپنا وار مکمل کر پاتا، فضا میں ایک ایسی گرجدار اور خوفناک چیخ گونجی جس نے جزیرے کے پرندوں کو اڑنے پر مجبور کر دیا۔ یہ ٹارزن کی جنگلی چیخ تھی!
ٹارزن درخت کی شاخ سے ایک چیتے کی مانند اچھلا اور سیدھا اس پرندے نما مخلوق کی پیٹھ پر جا گرا۔ مخلوق اس اچانک حملے سے بوکھلا گئی اور اس کا خنجر ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گرا۔ ٹارزن نے اپنی مضبوط بانہوں سے اس کی گردن کو جکڑ لیا۔ مخلوق نے غصے سے چنگھاڑتے ہوئے ٹارزن کو اپنی پیٹھ سے اتار پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کی طاقت حیران کن تھی، اس نے ٹارزن کو ہوا میں اچھال دیا۔
ٹارزن ریت پر گرا لیکن وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔ اب دونوں ایک دوسرے کے سامنے تھے۔ ٹارزن نیم برہنہ، اپنے ہاتھ میں چاقو لیے، عزم و ہمت کی تصویر بنا ہوا تھا، جبکہ اس کے سامنے جزیرہِ پریان کا وہ سفاک محافظ کھڑا تھا جو انسانوں کا خون بہانے کا پیاسا تھا۔
"تم کون ہو اور میری سلطنت میں کیا کر رہے ہو؟" مخلوق نے ایک گرجدار انسانی آواز میں پوچھا، جسے سن کر ٹارزن حیران رہ گیا، لیکن اس نے اپنے چہرے پر خوف ظاہر نہ ہونے دیا۔
"میں ٹارزن ہوں، جنگل کا بادشاہ! اور میں کسی کمزور پر ظلم ہوتے نہیں دیکھ سکتا،" ٹارزن نے گرجدار آواز میں جواب دیا
پرندے نما جنگجو نے غصے سے اپنی چونچ کو زمین پر مارا، جس سے چنگاریاں نکلیں اور ریت اڑنے لگی۔ اس نے زمین سے اپنی تلوار اٹھائی اور ٹارزن پر جھپٹا۔ ٹارزن نے اپنی چستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دائیں طرف چھلانگ لگائی اور تلوار کا وار خالی چلا گیا۔ ٹارزن نے موقع پاتے ہی اپنے چاقو سے اس کے بازو پر ایک گہرا کٹ لگایا۔
مخلوق درد سے چلائی اور اس نے اپنے فولادی پیر سے ٹارزن کے سینے پر وار کیا۔ ٹارزن دور جا گرا اور اس کے منہ سے خون کی ایک لکیر نکل آئی۔ پری، جو دور کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی، نے ڈرتے ہوئے ٹارزن کو پکارا، "اے اجنبی بہادر! اس کی کمزوری اس کا نیلا تاج ہے، اسے وہاں چوٹ پہنچاؤ!"
ٹارزن نے پری کی بات سن لی۔ وہ دوبارہ اٹھا، اب اس کی آنکھوں میں جنگلی غصہ تھا۔ جب مخلوق نے دوبارہ تلوار اٹھا کر ٹارزن پر حتمی وار کرنا چاہا، تو ٹارزن جھک گیا اور اس کی ٹانگوں کے بیچ سے نکلتے ہوئے اس کی پیٹھ پر چڑھ گیا اور اپنے چاقو کا دستہ پوری طاقت سے اس کے نیلے تاج کے عین وسط میں مارا۔
ایک زوردار دھماکے جیسی آواز آئی اور وہ مخلوق لرز اٹھی۔ اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ گئی اور وہ اوندھے منہ ریت پر گر پڑی۔ وہ مرا نہیں تھا، لیکن شدید زخمی اور بے ہوش ہو چکا تھا اور اس کی جادوئی طاقت ختم ہو چکی تھی۔
جب خطرہ ٹل گیا، تو پری ٹارزن کے پاس آئی۔ اس کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔ اس نے اپنا جادوئی ہاتھ ٹارزن کے زخموں پر پھیرا، جس سے ٹارزن کا درد سیکنڈوں میں غائب ہو گیا۔
"تمہارا شکریہ، اے زمین کے انسان! میرا نام زہرہ ہے اور میں اس جزیرے کی پری ہوں۔ یہ مخلوق 'عقاب خان' ہے، جو ایک بدروح کا غلام ہے اور ہمارے جزیرے پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اگر آج تم نہ ہوتے، تو ہماری پوری سلطنت تباہ ہو جاتی،" پری نے مدہم اور شیریں آواز میں کہا۔
اسی لمحے آسمان سے مزید پریاں اتر آئیں اور انہوں نے ٹارزن کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ جزیرے کے بادشاہ نے ٹارزن کو اپنا مہمانِ خصوصی بنایا اور اسے کئی نایاب تحائف دیے۔ ٹارزن نے کچھ دن اس خوبصورت اور جادوئی جزیرے پر گزارے، جہاں اس نے پریوں کی ثقافت اور ان کے جادو کو دیکھا۔
لیکن افریقہ کا جنگل اسے پکار رہا تھا، کیونکہ ایک بادشاہ اپنی رعایا سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتا۔ پریوں نے اپنے جادو سے ایک خوبصورت اور مضبوط کشتی تیار کی اور ٹارزن کو الوداع کہا۔ ٹارزن نقشے اور خوبصورت یادوں کے ساتھ اپنے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا، یہ جانتے ہوئے کہ سمندر کے اس پار اس کے کچھ ایسے دوست بھی ہیں جو ہمیشہ اس کے احسان مند رہیں گے۔

24/06/2026

#راکھ کا خراج
انا اور مظلومیت کی داستان

لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی شروعات دل سے ہوتی ہے، لیکن کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جہاں محبت دل کی مرضی سے نہیں بلکہ فرض کی مٹی سے جنم لیتی ہے۔ میری زندگی کا مژدہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ دل کے کسی نہاں خانے میں ایک چہرہ بسا تھا، ایک ایسی خواہش تھی جسے پانے کی تڑپ میں، میں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہاں سے انکار ہوا تو بظاہر وہ لڑکی والوں کا فیصلہ تھا، مگر وقت کی دھول نے دھیرے دھیرے یہ سچ اگل دیا کہ اس انکار کے پیچھے میری اپنی ماں کے پوشیدہ اشارے اور ناپسندیدگی کا ہاتھ تھا۔
جب یہ امید ٹوٹ گئی، تو میری ماں نے میرے لیے خود ایک لڑکی کا انتخاب کیا۔ میں نے اپنے ماضی کے تمام ادھورے خوابوں، حسرتوں اور یادوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ میرا اللہ گواہ ہے کہ میں نے اس نئی شریکِ حیات کو اپنی روح اور دل و جان سے قبول کیا۔ میں نے یہ عزم کر لیا تھا کہ ماضی جو بھی تھا، اب میرا حال اور مستقبل صرف اور صرف میری منکوحہ سے وابستہ ہے۔ میں فقط اس کا ہو کر رہ گیا۔
لیکن تماشائے زندگی دیکھیے، جن ماں نے خود یہ رشتہ جوڑا تھا، اب انہیں ہی اعتراض تھا کہ میں اپنی بیوی کی محبت میں گم کیوں ہوں؟ گھر کے دالان میں اکثر یہ سرگوشیاں گونجتیں:
"یہ تو بیوی کے نیچے لگ کر رہ گیا ہے، مجھ میں مردوں والی کوئی بات ہی نہیں!"
میں نے کئی بار ماں کے سامنے بیٹھ کر بہت ادب سے گزارش کی: "امی جی! میں گھر کو مقتل نہیں بنانا چاہتا۔ میں بلاوجہ کی ٹینشن اور حالات کی خرابی سے ڈرتا ہوں۔ اگر آپ کو میری بیوی سے کوئی گلہ ہے، تو آپ اس سے ڈائریکٹ بات کریں۔ آپ ہی تو اسے بیاہ کر لائی تھیں! اگر وہ آپ کی جائز بات نہیں مانتی تو مجھے بتائیں، لیکن جو اس کے جائز حقوق ہیں، وہ مجھے ہر حال میں پورے کرنے ہیں۔ اگر آپ کو اس کے حقوق کی ادائیگی پر اعتراض ہے، تو پھر آپ غلطی پر ہیں۔ میں اپنے فرائض سے غفلت نہیں برت سکتا، کیونکہ مجھے اس معصوم کے بارے میں کل روزِ محشر اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے۔"
میری یہ کھری اور اصول پسند باتیں میری والدہ کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئیں۔ شدید غصے کے باوجود وہ مجھے تو کچھ نہ کہہ سکیں، مگر انہوں نے اس معاملے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ اب بات بے بات، بلاوجہ میری بیوی پر طنز کے تیر چلائے جاتے اور رائی کا پہاڑ بنا کر لڑنا جھگڑنا روز کا معمول بن گیا۔
حالات جب اس نہج پر پہنچ گئے جہاں ہر دن ایک نیا عذاب بننے لگا، تو میں نے ایک بڑا فیصلہ کیا۔ میں اپنی بیوی کو ایک الگ گھر میں لے گیا تاکہ وہ سکون کا سانس لے سکے۔ مگر انا کی آگ اتنی جلدی کہاں ٹھنڈی ہوتی ہے؟ اب والدہ کا نیا اعتراض سامنے آیا کہ وہ اکیلی نہیں رہ سکتی تھیں۔ رشتے بچانے کی خاطر میں نے ایک اور سمجھوتہ کیا۔ ہم نے حل یہ نکالا کہ ایک ہی گھر کی پہلی منزل پر والدہ رہیں گی اور دوسری منزل پر میری بیوی۔
لیکن دیواریں الگ ہونے سے دلوں کے بغض کم نہیں ہوئے۔ حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑتے چلے گئے۔ اب جب بھی کوئی تنازع ہوتا، میں حقائق کو دیکھتا۔ میری والدہ کی پابندیاں، شکوک اور اعتراضات بالکل بے بنیاد اور ظلم پر مبنی ہوتے تھے۔ چنانچہ میں نے اپنی ماں کی بجائے اپنی بیوی کا ساتھ دینا شروع کیا، کیونکہ وہ حق پر تھی۔
مگر افسوس! اس مصلحت پسند معاشرے میں اپنی مظلوم بیوی کے حق میں کھڑا ہونا میرا نہیں، بلکہ میری بیوی کا سب سے بڑا جرم گنا گیا۔ میری ماں نے یہ سمجھ لیا کہ اس لڑکی نے ان کے بیٹے کو ان سے چھین لیا ہے۔ اور پھر، اس نام نہاد جرم کی ایسی سزا طے کی گئی جس کا تصور بھی روح کو کپکپا دیتا ہے۔
والدہ نے محلے بھر میں میری بیوی کی کردار کشی شروع کر دی۔ اس پر ایسے غلیظ اور جھوٹے الزامات لگائے گئے کہ سن کر غیرت کانپ اٹھے۔ میں نے کئی بار نرم اور عاجزانہ لہجے میں اپنی ماں کو سمجھانے کی کوشش کی: "امی، خدا کے لیے باز آ جائیں، یہ دنیا فانی ہے اور کسی کی عزت اچھالنا گناہِ کبیرہ ہے۔" مگر وہ نہ مانیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مجھ جیسے فرماں بردار بیٹے کے دل میں بھی ماں سے ایک دوری پیدا ہو گئی، مگر دوسری طرف ساس اور بہو کے تعلقات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔
ایک دن میں کسی کام سے گھر پر موجود نہیں تھا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت میری بیوی پر چوری کا الزام لگایا گیا۔ یہ محض الزام نہیں تھا، بلکہ نفرت کا ابلتا ہوا لاوا تھا جو اس پر مار پیٹ کی شکل میں پھٹ پڑا۔ جب میں گھر لوٹا اور اپنی بیوی کی یہ حالت دیکھی، تو میرا ضبط جواب دے گیا۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے گھر والوں سے سخت رویہ اپنایا اور کڑک دار لہجے میں ان کی اس فرعونیت پر غصہ کیا۔
میرے اس جلال کو دیکھ کر میری ماں اور بہنیں، جو اس تشدد میں برابر کی شریک تھیں، وقتی طور پر ڈر گئیں اور انہوں نے میری بیوی سے معذرت کر لی۔ مگر یہ معذرت دل سے نہیں، خوف سے تھی۔ ان کے دلوں میں نفرت کا یہ زہر اب ناسور بن چکا تھا۔ وہ ایک ایسے موقع کی تلاش میں تھیں جہاں وہ اپنی انا کی تسکین کے لیے آخری حد پار کر سکیں۔
اور وہ منحوس دن بھی آ گیا۔ میں پھر گھر پر موجود نہیں تھا۔ اس بار الزام اور بھی مضحکہ خیز تھا— "آٹا چوری کرنے کا الزام!"
چند ہزار روپے کے آٹے کے تھیلے کی خاطر، میری ماں اور بہنوں نے میری بیوی کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ وہ کمرہ خود میری والدہ کا تھا، جس میں کم از کم چار سے پانچ لاکھ روپے کا قیمتی فرنیچر اور سامان پڑا تھا۔ نفرت اور انتقام کی آگ اس قدر شدید تھی کہ میری ماں کو اپنے لاکھوں کے فرنیچر کی بھی پرواہ نہ رہی۔ انہوں نے اس معصوم لڑکی کو اندر بند کر کے زندہ جلا دیا۔ صرف اس لیے کہ وہ اپنی انا کے بت کو مطمئن کر سکیں اور اس لڑکی کی جان لے سکیں۔
جب سب کچھ خاکستر ہو گیا، تو مجھے اطلاع دی گئی۔ میں بدحواس ہو کر جب گھر پہنچا، تو جائے وقوعہ کو دیکھ کر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ کمرے کی جلی ہوئی دیواریں، وہ راکھ اور ماحول میں پھیلا ہوا دھواں چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ یہ کوئی حادثاتی موت نہیں، یہ ایک باقاعدہ، سوچا سمجھا اور بے رحمانہ قتل ہے۔
مگر افسوس! میں اپنی زندگی، اپنی ہمسفر کو ہمیشہ کے لیے کھو چکا تھا۔ رشتوں کی رہی سہی لاج بچانے اور حالات کو مزید پاتال میں گرنے سے روکنے کی خاطر، میری خواہش تھی کہ قانون اپنا راستہ نہ بنائے اور میں خاموشی سے اپنی بیوی کی تدفین کر دوں۔ لیکن سچائی کو چھپانا ممکن نہیں تھا۔ میرے سسرال والے آ گئے، انہوں نے لاش کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور موقع پر پولیس بلا لی۔
پولیس نے جب کمرے کا معائنہ کیا، تو جلی ہوئی چیزوں کی پوزیشن اور لاش کی حالت دیکھ کر انہیں سب کچھ مشکوک لگا۔ وہ مجھے تفتیش کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔ میرے بعد میری والدہ اور بہنوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ قانون کی باریک بین تفتیش نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا۔ مجھے بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا گیا، جبکہ میری والدہ اور بہنیں اپنے اس بھیانک جرم کی پاداش میں آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہی ہیں۔
آج بھی، جب کبھی جیل کی ملاقاتی کھڑکی کے پار سے وہ مجھ سے گلہ کرتی ہیں اور روتی ہیں، تو وہ اپنی اس حالت کا ذمہ دار مجھے ٹھہراتی ہیں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے قانون کے دائرے میں رہ کر ان کی جان بخشی اور سزا میں نرمی کے لیے کتنی کوششیں کیں، مگر میں ناکام رہا کیونکہ مظلوم کا خون خود بولتا ہے۔
اب جب بھی وہ رو کر مجھ سے شکوہ کرتی ہیں، تو میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فقط ایک ہی سوال کرتا ہوں:
"امی! اگر بالفرض آپ کا الزام سچ بھی تھا، اگر میری بیوی نے چند ہزار کا آٹا چرا بھی لیا تھا، تو اس چند ہزار روپے کے آٹے کی خاطر آپ کو اپنے لاکھوں روپے کے فرنیچر کے ساتھ ایک زندہ انسان کو جلانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر آپ لوگ اس دن اتنا بڑا ظلم نہ کرتیں، تو شاید آج آپ کو ان تاریک سلاخوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔"
میری یہ تلخ سچائی سن کر میری ماں کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ وہ اپنی ہار اور جرم کے بوجھ تلے دب کر مجھے بددعائیں دینے لگتی ہیں، اور میں… میں بس ایک گہری سانس لیتا ہوں، خاموشی سے اٹھتا ہوں اور واپس آ جاتا ہوں۔ کیونکہ اب اس راکھ کے ڈھیر پر خاموش رہنے اور پچھتاوے کی دھول اڑانے کے سوا میرے پاس اور کچھ بھی نہیں بچا۔




Address

Sheikhupura

Telephone

+923458885867

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سبق آموز کہانیاں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share