11/09/2025
۔۔۔۔۔۔
*شہید ناموس رسالت غازی عامر عبد الرحمن چیمہ شہید رحمۃ اللّٰہ*
قسط نمبر 04
یہ نوجوان امت مسلمہ کا قابل فخر سپوت اور مایہ ناز فرزند غازی عامر چیمہ تھا اور وہ اخبار جس کے ایڈیٹر پر عامر چیمہ نے قاتلانہ حملہ کیا، ان ذرائع ابلاغ میں سے ایک تھا، جنہوں نے کائنات کی سب سے معزز و محترم ہستی نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا یا اس ناپاک جسارت کی حمایت کی۔ عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے وہ ایک مردِ جری نکلا، جس نے اپنے محبوب کی حرمت پر حملہ آور ہونے والوں کو ختم کر ڈالنے کا عزم کیا۔ یہ سوچے بغیر کہ خود اس کا اپنا انجام کیا ہوگا؟
جرمن پولیس نے عامر چیمہ کو گرفتار کیا اور تین دن بعد جب اس مردِ جری کو عدالت میں پیش کیا گیا تو یورپ کے دل میں خنجر پیوست کرنے والے گوروں کے اس مجرم کے ساتھ ساتھ عدالت کے روبرو اس کا وہ تحریری بیان بھی پیش کیا گیا، جس میں اس نے کہا تھا کہ:
میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے اخبار "ڈی ویلٹ (Die Welt)" کے ایڈیٹر ہینرک بروڈر (Henryk Broder) پر قاتلانہ حملہ کیا۔ یہ شخص ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا ذمہ دار تھا اور اگر مجھے آئندہ موقع ملا تو میں ایسے ہر شخص کو قتل کر ڈالوں گا۔ یہ سب کچھ سیاہ دل گوروں کے لئے ناقابلِ برداشت تھا۔ لہٰذا عامر چیمہ جیسے بہادر، جری، بے خوف اور نڈر مسلمان کو قانون سے ماوراء رہتے ہوئے جرمن پولیس نے اپنی حراست میں سخت تشدد اور ہتک کا نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔
بنا کردند خوش رہیں یہ خاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
شہیدِ ناموسِ رسالت کے والدِ محترم فرماتے ہیں:
عامر عشقِ رسول کا مجھ سے بڑھ کر تھا۔
خوبصورت سفید ڈاڑھی، دراز قد، باوقار سنجیدہ چہرہ اور روشن آنکھوں والے جناب محمد نذیر چیمہ صاحب ان خوش قسمت ترین والدین میں سے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے عشقِ رسول سے سرشار صدق و وفا کی پیکر اولاد عطا کی۔ جن لوگوں نے پروفیسر محمد نذیر صاحب کی زیارت کی، انہیں یہ کہنے میں ذرہ بھر تردّد نہیں کہ غازی عامر چیمہ شہید رحمۃ اللہ علیہ جیسے بہادر، دلیر اور نیک بخت بیٹے کی تربیت ایسے با برکت سایۂ عاطفت ہی میں ہو سکتی تھی۔
محترم جناب محمد نذیر چیمہ صاحب کا آبائی تعلق ضلع گوجرانوالہ، تحصیل حافظ آباد کے گاؤں ساروکی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عین شباب میں اپنی طرف توجہ اور انابت نصیب فرمائی اور اس میں بڑا دخل آپ کی والدہ محترمہ کا تھا، جو آج بھی الحمدللہ بقیدِ حیات ہیں اور اپنے گاؤں میں رہائش پذیر ہیں۔ انتہائی قریبی عزیزوں کی شہادت ہے کہ عامر شہید کی دادی صاحبہ مستقل اور دائمی تہجد گزار خاتون ہیں اور نیکی و عبادت گزاری آپ کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل موصوفہ کو فالج کا حملہ ہوا، جس کی وجہ سے کافی بیمار ہو چکی ہیں۔
پروفیسر محمد نذیر چیمہ صاحب ابتدا میں ائر فورس سے وابستہ ہوئے اور پھر بہت جلد ہی شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ دسمبر 1971ء سے جنوری 2006ء تک آپ حشمت علی اسلامیہ کالج راولپنڈی میں بطور استاد تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ آپ کا موضوعِ تدریس تعلیمِ جسمانی (Physical Education) رہا اور اب آپ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد فراغت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اپنے اکلوتے، لاڈلے محبوب، جواں سال، خوبصورت، فرشتہ سیرت، بہادر اور دلیر بیٹے کے سانحۂ شہادت کو پروفیسر صاحب نے جس حوصلے اور استقامت سے برداشت کیا ہے، بلاشبہ یہ انہی کا حصہ ہے۔ ہر ملنے والا محسوس کرتا ہے کہ غموں کے پہاڑ تلے دبے اس باحوصلہ باپ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہے، چہرے پر اطمینان و سکون چھایا ہوا ہے اور نگاہوں میں کرانگیز کشش جگمگا رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں برکت نصیب فرمائے۔ آمین۔
پروفیسر صاحب نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے ایک خصوصی نشست میں غازی عامر شہید رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ہمارے چند سوالات کا جواب دیا، جنہیں ہم قارئین تک پہنچا رہے ہیں۔
سوال: عامر شہید کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟
جواب: 4 دسمبر 1977ء لیکن کاغذات میں 6 دسمبر لکھی ہوئی ہے۔
سوال: غازی عامر شہید نے دینی تعلیم کہاں اور کتنی حاصل کی؟
جواب: میں اسے گھر میں خود ہی دینی تعلیمات سے آگاہ کرتا تھا۔ میں نے خود اسے نماز روزہ کے مسائل بتائے اور دیگر اہم احکامات سے آگاہ کیا۔ قرآنِ کریم ناظرہ اس نے حشمت علی کالج کی مسجد میں پڑھا۔ وہ تمام دینی ضروری تعلیمات سے روشناس تھا۔
سوال: عامر شہید کے باقی تعلیمی مراحل کہاں طے ہوئے؟
جواب: عامر نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول راولپنڈی میں حاصل کی۔ پھر ایف سی کلوز مینجمنٹ کی تعلیم کے لئے جرمنی گیا تھا۔ اس کورس کا چوتھا اور آخری مرحلہ چل رہا تھا۔ جولائی میں فراغت کے بعد وطن واپسی ہونی تھی۔
سوال: شادی کا کیا ارادہ تھا؟
جواب: یہ تو ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے۔ واپسی کے بعد کا ارادہ تھا۔
سوال: مستقبل کے حوالے سے عامر شہید کے کیا ارادے تھے؟
جواب: وہ پڑھائی کے بعد یونیورسٹی میں لیکچرار لگنا چاہتا تھا۔ اس کے لئے پی ایچ ڈی ضروری تھی۔ اسی لئے پی ایچ ڈی کے لئے وہ جرمنی گیا۔ عامر صرف انجینئر بن کر ملازمت نہیں کرنا چاہتا تھا، تاہم جرمنی جانے سے پہلے اس نے تقریباً دو سال کراچی اور لاہور میں ملازمت کی۔
سوال: آپ کے خیال میں جرمنی میں پیش آنے والے واقعہ کے محرکات کیا تھے؟
جواب: حبِّ رسول ﷺ کے سلسلہ میں وہ مجھ سے کہیں زیادہ سخت تھا۔ اگرچہ نمازوں کے بارے میں میں سخت تھا، لیکن عشقِ رسول ﷺ کے سلسلہ میں اس کے اندر بالکل لچک نہ تھی۔ اس موضوع پر گفتگو ہوتی تو وہ ہمیشہ بہت جذبات میں آجاتا۔ دوسرے لوگوں کی طرح اس معاملے میں اس نے کبھی کمزوری یا نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
سوال: آپ کو عامر شہید کی گرفتاری کا کب پتہ چلا؟
جواب: عامر 20 مارچ کو گرفتار ہوا۔ 17، 18 اپریل کی درمیانی رات ہمارا جرمنی سے رابطہ ہوا۔ وہاں مقیم رشتہ داروں نے باتیں کیں لیکن ہم نے عامر کا نام لیا تو فون بند کر دیا۔ آدھے گھنٹے بعد انہوں نے حافظ آباد فون کر کے واقعہ کی خبر دی، تب ہمیں اطلاع ملی۔
سوال: کیا آپ سوچ سکتے تھے کہ عامر شہید ایسا جراتمندانہ اقدام اٹھائے گا؟
جواب: اس کے اندر میں ایسے جذبات محسوس کرتا تھا۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ بہت وقت گزارتا ہوں۔ وہ اکثر مجھ سے کہتا کہ فلاں واجب القتل ہے تو میں اسے سمجھاتا کہ یہ تمہارا کام نہیں، حکومت کا کام ہے۔ اگر وہ فون پر مجھے بتا دیتا کہ میں ایسا کام کرنے لگا ہوں تو میں شاید اسے روکنے کی کوشش کرتا۔ وہ ایسے معاملات میں اکثر جذباتی ہو جایا کرتا تھا۔ اسی لئے ہم نے خاکوں کے بارے میں اس سے بات نہیں کی، کہ کہیں وہ جذباتی نہ ہو جائے، لیکن وہ خود ہی حساس طبیعت رکھتا تھا۔
سوال: جرمن پولیس دعویٰ کر رہی ہے کہ عامر نے خودکشی کی، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب: بات یہ ہے کہ 20 مارچ کو عامر گرفتار ہوا اور 4 مئی کو شہادت کی اطلاع ملی۔ اس دوران کسی رشتہ دار کو اس سے ملنے نہیں دیا گیا۔ اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ اور پھر ایک آدمی دلیرانہ اقدام اٹھاتا ہے، عشقِ رسول سے سرشار ہوتا ہے، وہ خودکشی جیسا قدم کیسے اٹھا سکتا ہے؟ اب تو صورتحال یہ ہے کہ جرمن حکومت نے زبردستی اسے رکھا ہوا ہے۔ چار دن بعد وہ جو لکھ کر دیں گے، ہماری حکومت اسے خاموشی سے قبول کر لے گی۔
سوال: شہادت سے پہلے تک عامر شہید کے مقدمے کی نوعیت کیا رہی؟
جواب: عدالت میں اسے پیش تو کیا گیا، اس کا تحریری بیان بھی لیا گیا اور عدالت سے ریمانڈ بھی لیا گیا لیکن مقدمہ باقاعدہ قائم نہیں ہوا۔ اگر مقدمہ قائم ہو جاتا اور چلتا تو اتنا خدشہ نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ اسے جرمنی سے ڈی پورٹ کر دیا جاتا اور پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ تک یہ مقدمہ نہیں چلنا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی انہوں نے اسے شہید کر دیا۔
سوال: آپ کا آخری بار اپنے بیٹے سے براہِ راست رابطہ کب ہوا؟
جواب: میری اس سے آخری بات 5 مارچ کو فون پر ہوئی۔ اس کے بعد 8 مارچ کو اس نے اپنے ایک رشتہ دار کی شادی پر فون کیا اور اس سے گپ شپ لگا کر مبارکباد پیش کی۔ اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
سوال: کیا آپ نے عامر کو جرمنی اپنی خوشی سے بھیجا تھا؟
جواب: میں اسے یورپ نہیں بھیجنا چاہتا تھا، اس لئے کہ مجھے پہلے سے خدشات تھے۔ میں چاہتا تھا کہ اسے چین یا جاپان بھیجوں لیکن داخلہ جرمنی میں ملا، اس لئے وہاں بھیج دیا۔
سوال: عامر شہید کی گرفتاری اور مقدمے کے حوالے سے جرمنی میں پاکستانی سفارتخانے کا کردار کیا رہا؟
جواب: جرمنی میں پاکستانی ایمبیسی کے سیکرٹری خالد عثمان نے مجھ سے رابطہ رکھا اور مجھے تفصیلات بتاتے رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عامر سے میری بھی کل ہی فون پر بات ہوئی ہے اور وہ بالکل خیریت سے ہے، اسے کوئی خوف نہیں ہے۔ اس کی آواز سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ مطمئن ہے لیکن اندر کی بات اور حقیقت کیا تھی ہمیں کچھ نہیں معلوم!
سوال: اکلوتے بیٹے کی شہادت اور اس جدائی کے بعد آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟
جواب: ہر انسان کی خواہش اور زندگی کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے اور اگر اسے یہ حاصل ہو جائے تو یہ اس کی سعادت ہے۔
♥️🌸🌼🤲🌹