06/07/2026
پینتیس جملے
انسان نے مرنا گہری نیند سے سیکھا
___
آنسو غیر ارادی بد دعاٸیں ہیں
___
زخم شاہکار بننے کا رف عمل ہوتے ہیں
___
انسان اڑ نہیں سکتا اس لیے وہ رقص کرتا ہے
___
پاگل پن معاشرے کے خلاف احتجاج ہے اور بس
___
زندگی تمھارے گھنگھریالے بالوں کی طرح بیک وقت پیچیدہ اور خوبصورت ہے
___
جب بھاگنے والا لنگڑانے لگے زندگی صرف تبھی دُگنی رفتار سے بھاگنے لگتی ہے
___
میں نے دنیا کے بڑے بڑے شہر دیکھے ہیں
اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی بھی شہر ایک گود سے بڑا نہیں ہو سکتا
___
ہم زندگی سے بھاگ کر ماں کے پیچھے چھپ بھی نہیں سکتے
___
محبت کرنا پیدا ہونے کی غلطی کو ٹھیک کرنے کی کوشش ہے
___
محبت کوئی بندوق نہیں
مگر کچھ لوگ اسے تم پہ تان کر تمھارا سب کچھ
لوٹ لیتے ہیں
___
میرے لیے یہ پوری دنیا ایک انتظار گاہ ہے جہاں بیٹھ کر میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں
___
خوشی کے موقع پر بہنے والے آنسو کسی پچھلے دکھ کے ہوتے ہیں
___
کئی بار محبت ہمیں آسمان سے چھلانگ لگانے کا حوصلہ تو دے دیتی ہے مگر پر دینا بھول جاتی ہے
___
رقص فضا میں اپنی اداسیاں تحلیل کرنے کا عمل ہے
___
خودکشی خود کو زندہ رکھنے کی آخری کوشش ہے
___
زندگی کسی برے لطیفے کے بعد چہرے پر سجاٸی جعلی مسکراہٹ جیسی ہے
___
تمھیں دیکھنے کی جلدی میں دروازے میں انگلی کی بجاٸے میرا دل آ جاتا ہے
___
نیند کی گولیوں سے ہماری نیند تو پوری ہو گٸی مگر خواب ادھورے ہی رہے
___
انسان زندگی اور موت کے درمیان ہونے والی ٹاس کا سکہ ہے
___
تمھاری محبت پاوں میں آئی موچ تھی مگر میری محبت تا عمر رہنے والا لنگڑا پن ہے
___
سر ڈھ جاتے ہیں جب ان کے لیے کندھے نہ ہوں
___
جانے والے کا راستہ مت روکو ورنہ وہ تمھارے پار ہو کر جائے گا
___
مدتوں بعد لوٹنے والوں پر ان کے گھر کتوں کی طرح بھونکنا شروع کر دیتے ہیں
___
ہر روتا ہوا شخص اپنے کسی ارمان کی لاش کے سرہانے بیٹھی ایک ماں ہے
___
داڑھی اور بال بڑھا کر ہم سمجھتے ہیں اداسی ہمیں پہچان نہیں سکے گی
___
خزاں تمہارا خط ہے
جو تم نے مجھے "کیا تم آو گی؟"کے جواب میں لکھا ہے
___
میرا وجود کسی اندھی بڑھیا کی طرح تمھاری موجودگی کی لاٹھی ڈھونڈ رہا ہے
___
وہ اتنی خوب صورت تھی کہ میں بھول گیا میرا بھی کوئی وجود ہے
___
اس کی آنکھیں اس شہر جیسی ہیں جس کی روشنیوں میں گاؤں سے آیا ایک لڑکا کھو جاتا ہے
___
پیار ایک سفید خرگوش کی طرح قلانچیں بھرتا ہوا ہماری طرف بڑھتا ہے اور یکدم سے ایک بھیڑیے میں بدل کر ہم پر حملہ آور ہو جاتا ہے
___
جنہیں رونے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے وہ محبت کر لیتے ہیں اور محبت انہیں رونے کی بے شمار وجوہات دے دیتی ہے
___
اُداس لوگ زندگی کے خلاف اُٹھے ہوٸے بینرز ہیں
___
پیار میں ہونا نیند میں ہونا ہے اور نیند میں کسی کی جان بہ آسانی لی جا سکتی ہے
___
میں لوگوں کے درمیان خود کو بالکل ایک کاکروچ محسوس کرتا ہوں گویا جلد یا بہ دیر ان کی سوچ مجھے کچل دے گی
___
تمام ہنگاموں کے باوجود بھی دنیا میں اتنا شور نہیں کہ مجھے اپنے ٹوٹے ہوٸے دل کی کراہیں سناٸی دینا بند ہوں
___
ہم نے دلوں کی مرمت سے زیادہ وقت محلوں کی تعمیر میں لگا دیا سو ہماری آنکھوں کے سامنے بہت ترتیب اور آنکھوں کے اندر بہت سا انتشار ہے