30/11/2023
آرائیں ذات کے آباؤاجدادشامی عرب تھے، جو 712ء ميں جہاد کی غرض سے برصغیر آئے تھے۔ محمد بن قاسم کے ساتھ برصغير ميں داخل ہونے والی فوج کی تعداد 12,000 تھی، جس میں 6000 آرائیں مجاہدین تھے،
محمد بن قاسم کے لشکر سے آرائیں لفظ کی تشریح راجا داہر کی
قید میں ایک مسلمان لڑکی کی آواز پر لبیک کہنے والا بارہ ہزار عوام کا اسلامی لشکر چار حصوں پر مشتمل تھا پہلا حصہ کا نام مقدمتہ الجیش تھا جو تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل تھا اور لشکر سے تین چار میل آگے سے راستہ کی راہنمائی کر رہا تھا۔باقی دائیں طرف کا لشکر (میمنہ) اور بائیں طرف والا (میسرہ) اور درمیان میں والے لشکر کا نام( قلب )تھا۔ ہر اسلامی لشکر کے پاس ایک جھنڈا ہوتا تھا جس کو فوج ہر صورت میں بلند رکھتی ہے۔اور جنگ کے اختتام پر یہ مفتوحہ زمین پر گاڑ دیا جاتا ہے۔اس جھنڈے کا ذکر ہمارے پیارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو غزوات خود لڑے ان میں بھی ہے اور صحابہ اکرام نے ان کو گرنے سے بچانے کے لیے شہادتیں نوش فرمائیں ہیں۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (الرائیہ) ہوتا تھا۔ فتح کے بعد اس شامی فوج کے سپاہی کو الرائیہ کی نسبت سے الرائیی کہا جانے لگا ۔
لفظ الرائیی عربی میں جب بولا جاتا ہے تو سننے میں آرائیں ہوتا ہے کیونکہ عربی میں ا کے بعد ل نہیں بولی جاتی۔ الرائیی لفظ کو انگلش میں آرین کہتے ہیں۔ انگلش تاریخ دانوں نے جو یہ لکھا ہے کہ آرین A***n نے یورپ سے آکر یہاں حملہ کیا اور آباد ہوئے بالکل ٹھیک لکھا ہے کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت شام میں اسلامی خلافت اور دنیا کی سپر پاور تھی اور اس سلطنت کے علاقے یورپ میں بھی تھے اس وقت جب یہ لشکر شام کے جس علاقے سے بھیجا گیا وہ آج بھی شامی علاقہ یورپ کی حدود میں واقعہ ہے۔۔خلاصہ کلام یہ کہ آرائیں قوم برصغیر پاک وہند میں عرب سے محمد بن قاسم کی قیادت میں ہی آئی تھی۔جو بعد میں مستقل طور پریہاں رہائش پزیر ہو گئی
ریسرچ بائے it's Professor 📸