Mr Asif Niazi Vlogs

Mr Asif Niazi Vlogs Need your support Please like 👍 And follow my page
Do you like my video please share your friend 😊 💗
Everyone
gaming video creator
(1)

30/08/2026
26/08/2026

Follow kr lo please 🌹❤

بریکنگ نیوز میانوالی میں گرین الیکٹرک بس سروس آج معطل رہے گی معلوم ہوا ہے کہ میانوالی میں الیکٹرک بس کو چارج کرنے کے لیے...
25/08/2026

بریکنگ نیوز
میانوالی میں گرین الیکٹرک بس سروس آج معطل رہے گی
معلوم ہوا ہے کہ میانوالی میں الیکٹرک بس کو چارج کرنے کے لیے بجلی کا ٹرانسفارمر خراب ہو گیا جس کی وجہ سے الیکٹرک بس جارج ہونے سے قاصر ہیں اور سولر یا دیگر متبادل سسٹم بھی نہیں ہے
مسافر گرین بس کے انتظار میں پریشان ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد بس سروس کی بحالی کے لئے اقدامات کئے جائیں

24/08/2026

قسم ہے ربِّ ذوالجلال کی، جو بھی اس دنیا میں آیا ہے، اسے ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے۔

چاہے وہ کوئی اعلیٰ افسر ہو یا ایک غریب مزدور، وزیراعظم ہو یا گلی میں بیٹھا ہوا موچی، بڑا عہدیدار ہو یا سڑک کنارے ریڑھی لگانے والا—موت کسی کے عہدے، دولت، اختیار یا حیثیت کو نہیں دیکھتی۔

دنیا میں انسان جتنا بھی طاقتور ہو جائے، آخرکار اسے اسی حقیقت کے سامنے جھکنا ہے جس کے سامنے ہر انسان بے بس ہے۔

نہ عہدہ ساتھ جائے گا، نہ پروٹوکول، نہ دولت اور نہ اختیار۔

آخر میں انسان کے ساتھ صرف اس کے اعمال جائیں گے۔

اس لیے جس کے پاس آج اختیار ہے، اسے چاہیے کہ وہ اسے ظلم کے لیے نہیں بلکہ انصاف، خدمت اور انسانیت کے لیے استعمال کرے۔

کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، مگر انسان کے اعمال کا حساب ضرور رہتا ہے۔

24/08/2026

🇵🇰 الٹی گنگا کب تک بہتی رہے گی؟

پاکستان میں بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نظام اپنی اصل سمت کے برعکس چل رہا ہے۔

ریاست نے فوج اس لیے قائم کی کہ وہ ملک اور عوام کی حفاظت کرے، پولیس اس لیے بنائی گئی کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے، اور سرکاری ادارے اس لیے قائم کیے گئے کہ وہ عوام کو سہولت اور انصاف فراہم کریں۔

لیکن جب کبھی یہی ادارے اپنے ہی شہریوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے ہیں، طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، یا ایک عام آدمی کو اپنے جائز کام کے لیے بھی مشکلات اور مبینہ رشوت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو دل میں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:

کیا ریاستی نظام کا مقصد عوام کی خدمت ہے یا عوام کو نظام کے سامنے بے بس کرنا؟

یہ تمام ادارے بھی بالآخر اسی ملک کے عوام کے وسائل سے چلتے ہیں۔ عام آدمی روزمرہ کی تقریباً ہر چیز میں براہِ راست یا بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے؛ ایک معمولی چیز خریدنے سے لے کر گاڑی، گھر، بجلی، پٹرول اور کاروبار تک۔

تو پھر اس شہری کا حق کیا ہے؟

اس کا حق ہے کہ اسے عزت ملے، تحفظ ملے، انصاف ملے اور اس کے جائز کام قانون کے مطابق ہوں۔

کسی شہری کو اختلافِ رائے پر دشمن نہ سمجھا جائے، سوال کرنے پر مشکوک نہ بنایا جائے، اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والے کو فوری طور پر کسی سیاسی یا منفی لیبل میں نہ ڈالا جائے۔

ہمیں اداروں سے دشمنی نہیں چاہیے۔

ہمیں اپنی فوج سے بھی امید ہے، پولیس سے بھی، سرکاری افسران سے بھی اور تمام ریاستی اداروں سے بھی۔

لیکن اداروں کی عزت اور عوام کے حقوق ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔

ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جہاں ادارے مضبوط ہوں، مگر قانون کے تابع ہوں؛ جہاں افسر بااختیار ہو، مگر جواب دہ بھی ہو؛ اور جہاں عام شہری کمزور ہونے کے باوجود اپنے بنیادی حقوق کے لیے انصاف حاصل کر سکے۔

ہمیں کسی ادارے کے خلاف نفرت نہیں پھیلانی، بلکہ صرف یہ کہنا ہے:

یہ ملک بھی ہمارا ہے، یہ ادارے بھی ہمارے ہیں، اور اس ملک کا عام شہری بھی عزت، تحفظ اور انصاف کا اتنا ہی حق دار ہے جتنا کوئی بااختیار شخص۔

اختلاف ہو سکتا ہے، شکایت ہو سکتی ہے، احتجاج بھی ہو سکتا ہے—
مگر ہر حال میں قانون، انسان کی جان اور شہری کی عزت مقدم ہونی چاہیے۔

آخر میں سوال صرف اتنا ہے:

اگر عوام ریاست کے لیے ہیں، تو ریاست عوام کے لیے کب ہوگی؟

#پاکستان #عوام #قانون #انصاف #ریاست #پاکستانی

24/08/2026

🗣️ ہم یوتھیے، جیالے اور پٹواری بن گئے… مگر شہری بننا بھول گئے!

ہمیں ایک دوسرے کو یوتھیے، جیالے، پٹواری، لفافی، فتنہ پرور اور غدار کہنے میں تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن کبھی رک کر یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟

ہمیں سیاسی جماعتوں نے آپس میں اس قدر تقسیم کر دیا ہے کہ ہم اپنے ہی ملک کے عام شہری کو دشمن سمجھنے لگے ہیں۔

2016ء میں مصطفیٰ کمال نے الطاف حسین پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگ ان کے نزدیک ’’کیڑے مکوڑے‘‘ ہیں اور الزام عائد کیا تھا کہ سیاسی اقتدار کے لیے لاشوں کی سیاست کی گئی۔

یہ جملہ صرف ایک سیاسی جماعت یا ایک شخصیت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
ہمیں اصل سوال یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا پاکستان میں عام آدمی کی جان، عزت، ووٹ اور آواز واقعی اتنی ہی بے وقعت ہو چکی ہے؟

آج ہم کسی کو پی ٹی آئی کا کارکن دیکھ کر اس پر ’’یوتھیا‘‘ کا لیبل لگا دیتے ہیں، کسی کو پیپلز پارٹی کا ووٹر دیکھ کر ’’جیالا‘‘ کہتے ہیں، کسی کو مسلم لیگ کا حامی دیکھ کر ’’پٹواری‘‘ کہہ دیتے ہیں۔

مگر ذرا سوچیں…

جب کسی غریب کا بچہ مر جاتا ہے تو وہ یوتھیا، جیالا یا پٹواری نہیں ہوتا—وہ صرف ایک ماں کا بیٹا ہوتا ہے۔

جب کسی شہری کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر مارا جاتا ہے تو اس کا خون کسی پارٹی کے جھنڈے کا رنگ نہیں ہوتا۔

اور جب کسی بے گناہ انسان کو طاقت کے استعمال سے خاموش کرایا جاتا ہے تو سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کس جماعت کا تھا؛
سوال یہ ہونا چاہیے کہ اسے انصاف کیوں نہیں ملا؟

پاکستان کا المیہ شاید یہی ہے کہ ہم نے سیاسی وابستگی کو شعور کا متبادل بنا لیا ہے۔

اپنے حق کی بات کرو تو تم پر ’’فتنہ‘‘ کا الزام لگ جاتا ہے۔
احتجاج کرو تو ’’شرپسند‘‘ کہا جاتا ہے۔
سوال کرو تو ’’غدار‘‘ کہا جاتا ہے۔
حکمرانوں سے جواب مانگو تو تمہیں کسی نہ کسی سیاسی خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے:

کیا ریاستی طاقت کا مطلب یہ ہے کہ عام شہری سوال بھی نہ کر سکے؟

کیا اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے؟

کیا اختلافِ رائے دشمنی ہے؟

کیا ہر وہ شخص جو حکومت، اپوزیشن یا کسی طاقتور ادارے سے سوال کرے، لازماً کسی کا ایجنٹ ہوتا ہے؟

نہیں!

باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو شخصیتوں کی نہیں، اصولوں کی حمایت کرتی ہے۔

آج اگر کسی سیاسی جماعت کے کارکن پر ظلم ہو تو آواز اٹھائیں۔
کل اگر دوسری جماعت کے کارکن پر ظلم ہو تو تب بھی آواز اٹھائیں۔

آج اگر حکومت غلط کرے تو سوال کریں۔
کل اگر اپوزیشن غلط کرے تو تب بھی سوال کریں۔

آج اگر کوئی طاقتور غلط کرے تو اس کے خلاف بولیں۔
اور اگر کوئی کمزور غلط کرے تو اسے بھی قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔

ہمیں یوتھیے، جیالے اور پٹواری بننے سے پہلے پاکستانی اور باشعور شہری بننا ہوگا۔

کیونکہ سیاست دان بدلتے رہتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن عوام یہی رہتے ہیں۔

اور یاد رکھیں:

جس دن عوام نے ایک دوسرے کے سیاسی لیبل اتار کر اپنے بنیادی حقوق کو پہچان لیا، اُس دن کسی کے لیے عوام کو تقسیم کرکے حکومت کرنا آسان نہیں رہے گا۔

ہمیں ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے یہ سوال کرنا ہوگا:

ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟
ہمیں کس طرف لے جایا جا رہا ہے؟
اور آخر کب تک عام پاکستانی کی جان، عزت اور آواز کو سیاسی مفاد سے کم تر سمجھا جائے گا؟

#پاکستان #عوام #انصاف #پاکستانی

24/08/2026

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک آرمی افسر لوگوں کی طرف پستول تان رہا ہے اور ہوائی فائرنگ کر رہا ہے۔ آخر اس واقعے کی اصل حقیقت کیا ہے؟ آپ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

24/08/2026

اوپر ویڈیو میں ایک آرمی آفیسر کو لوگوں کی طرف گن تانتے اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس دوران کسی عوامی شخص کو نقصان پہنچ جاتا، یا مشتعل عوام افسر کو کوئی نقصان پہنچا دیتے، تو پھر اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ آپ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

23/08/2026

23/08/2026

Address

Mianwali
Mianwali
42200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mr Asif Niazi Vlogs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share