30/05/2026
کیا ہم واقعی پاکستانی فلموں کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں، یا ہم نے انہیں موقع دینے سے پہلے ہی مسترد کرنا سیکھ لیا ہے؟
حال ہی میں فہد مصطفی اور مہوش حیات کی فلم زومبی عید ریلیز ہوئی جس پر زیادہ تر تنقیدی تبصرے پڑھنے کو ملے۔
ٹھیک ہے زومبی عید سے لوگوں کو بہت امیدیں وابستہ تھیں جس پر شاید وہ پوری نا اتری۔ لیکن ایک اچھی کوشش سمجھ کر اسے سراہنا بنتا ہے کہ کم از کم ہم ایک فیملی ڈرامہ سے نکل کر نئے دور کے ٹاپکس پر موویز بنا رہے ہیں۔
بالی وڈ آج بھی پاکستانی منجن بیچ کر پیسہ کما رہا ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال دھریندر اور دھریندر ٹو ہے۔ ان کی عوام کو بھی پتا پے کہ یہ ہمیں الو بنا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے انڈسٹری کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ہماری طرح نہیں کہ " میں نے زومبی عید کا دو ہزار کا ٹکٹ خریدا، پانچ سو کے پاپ کارن لیے اور فلم دیکھی جو کہ بالکل بیکار تھی، مت دیکھنا، فضول ہے بیکار ہے "۔
بھائی فہد مصطفی یا مہوش حیات نے ترلے تو نہیں ڈالے تھے کہ نا بھائی اگر تو نے فلم نا دیکھی تو ہماری فلم دو ہزار روپوں سے محروم ہو جائے گی۔
اب دوسرے منجن والے لوگ جو ابھی تک پرانی فلم انڈسٹری کا موازنہ موجودہ دور سے کرتے ہیں۔ پرانی فلموں کی اپنی خوبصورتی تھی لیکن وقت کے تقاضے، ٹیکنالوجی، فلم سازی کے طریقے اور موضوعات بدل چکے ہیں۔ اب ہم یا جین زی اپنے کھیت تباہ نہیں ہوتے دیکھنا چاہتے۔ کسان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ۔
اس پر بس نہیں ہوتی ان لوگوں کی تو کراچی اور لاہور بیچ میں لے آتے ہیں۔
بالی وڈ بھی تامل، کناڈا، تیلگو فلم انڈسٹری کو کچھ نہیں سمجھتا تھا آج اپنی ساکھ بچانے کے لیے انھی کا سہارا لے رہا ہے ۔
یہ سب باتیں میں اس لیے کر رہی ہوں کہ اپنی فلم انڈسٹری کو تھوڑا وقت دیں تنقید ضرور کریں لیکن حوصلہ افزائی بھی کریں۔
اپنی رائے ضرور دیں لیکن اپنی سوچ دوسروں پر مسلط نا کریں۔ دنیا بھر میں فلمیں ناقدین موجود ہیں وہ اپنا نقطہ نظر دیتے ہیں اور فیصلہ عوام پر ہی چھوڑتے ہیں ۔
اگر ہم واقعی پاکستانی سنیما کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں تو صرف تنقید کافی نہیں۔ ہمیں اچھی کوششوں کی حوصلہ افزائی بھی کرنی ہوگی۔ خامیاں ہر جگہ ہوتی ہیں، لیکن کسی بھی صنعت کو بہتر ہونے کے لیے وقت اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
ثناء سلطان