Haq ki baten

Haq ki baten Review Page this is islamc shia Noha Qaseeda MajlisAza

Iss page pe sirf islamc shia poting hogi
pic walpepaer+mp3 noha and vidoes +islamc movies more any taip for shia commedts in page
so plzzzz
Not alod other posting in this page is islamc shia

13/07/2026

قران مجید میں محمد صلی اللہ علیہ وعلی وصلم کی فضیلت اور 12 امام علیہ السلام کا ذکر، پارٹ 2، علامہ طالب جوہری

12/07/2026

قران مجید میں محمد صلی اللہ علیہ وعلی وصلم کی فضیلت اور 12 امام علیہ السلام کا ذکر، پارٹ 1، علامہ طالب جوہری

12/07/2026

شہادت امام سجاد علیہ السلام 25 محترم

لانت بار دشمن زھراہ🖐👋👋👋👋👋👋
12/07/2026

لانت بار دشمن زھراہ
🖐👋👋👋👋👋👋

🕌 امام زین العابدینؑ کےمعجزات وکرامات دوم پرندوں کی زبان سے آگاہیمشہور راوی ابوحمزہ ثمالی روایت کرتے ہیں:میں ایک روز حضر...
12/07/2026

🕌 امام زین العابدینؑ کےمعجزات وکرامات دوم پرندوں کی زبان سے آگاہی
مشہور راوی ابوحمزہ ثمالی روایت کرتے ہیں:
میں ایک روز حضرت امام زین العابدینؑ کی خدمت میں حاضر تھا۔ اچانک چند چڑیاں آپؑ کے گرد منڈلانے لگیں اور مسلسل چہچہانے لگیں۔
امامؑ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
"اے ابوحمزہ! کیا تم جانتے ہو یہ چڑیاں کیا کہہ رہی ہیں؟"
میں نے عرض کیا:
"میرے مولا! نہیں، میں نہیں جانتا۔"
امامؑ نے فرمایا:
"یہ اپنے پروردگار کی پاکی اور بزرگی بیان کر رہی ہیں، اس کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہیں، اور اسی سے اپنے آج کے رزق کی دعا مانگ رہی ہیں۔"
یہ صرف پرندوں کی آواز کا علم نہ تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ روحانی بصیرت تھی جس کے ذریعے امامؑ مخلوقات کی زبان کو سمجھتے تھے، اور ان کی حاجات و مناجات سے بھی آگاہ تھے۔
حوالہ:
ابو نعیم اصفہانی، حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء، جلد 3، ص 140۔
دعا گو
تنویر باقر چنو

وہ شخص جس نے امام حُسین علیہ السّلام کے شعائر کو مٹانے کی کوشش کی... مگر ناکام رہا۔27 مارچ 1936ء کو یاسین ہاشمی نے عراق ...
30/06/2026

وہ شخص جس نے امام حُسین علیہ السّلام کے شعائر کو مٹانے کی کوشش کی... مگر ناکام رہا۔

27 مارچ 1936ء کو یاسین ہاشمی نے عراق میں اپنی نئی حکومت قائم کی، اور اقتدار سنبھالتے ہی اس کا پہلا ہدف شعائرِ حسینی بنے۔
حکومت بننے کے صرف پانچ دن بعد، یعنی 2 اپریل 1936ء کو اس نے حکم جاری کیا کہ حسینی جلوسوں کیلئے عوامی چندہ جمع کرنا ممنوع ہوگا۔
اسی کے ساتھ یہ فیصلہ بھی نافذ کیا گیا کہ ماتم اور مجالس صرف اہلِ بیت علیہم السّلام کے مزارات کے اندر منعقد کی جا سکیں گی، جبکہ مزارات کے باہر ہر قسم کے عزاداری کے اجتماعات پر پابندی ہوگی۔

کاظمین میں تو اس نے عزاداری پر مکمل پابندی عائد کر دی اور یہ جواز پیش کیا کہ یہ شعائر دارالحکومت کی خوبصورتی کو متاثر کرتے ہیں۔

اسی سال یکم محرم 4 اپریل کو آیا، اور حکومت نے اپنے فیصلے پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا۔
یہ اقدامات اس وقت کے عراقی بادشاہ غازی بن فیصل کی منظوری سے کیے گئے۔
اس کے بعد یاسین ہاشمی نے ایک اور متنازع فیصلہ کرتے ہوئے امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے روضۂ اقدس کے اطراف واقع شیعہ قبرستان کے بعض حصوں کو منہدم کر کے وہاں ڈاک خانہ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔
اس اقدام پر اہلِ کاظمین نے شدید احتجاج کیا۔ عوام اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں متعدد افراد جاں بحق، بہت سے زخمی اور درجنوں گرفتار ہوئے۔
اس وقت کے وزیرِ داخلہ رشید عالی گیلانی بھی پولیس کے ہمراہ کارروائی میں شریک تھے۔

ادھر کربلا میں اہلِ شہر نے حکومتی پابندی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
شبِ عاشور طویریج کے باغات میں عزادار جمع ہوئے، اور عاشور کے دن جلوس برآمد ہوئے۔ عوام کے عزم کے سامنے حکومت بے بس ہو گئی اور عزاداری حسبِ معمول روضۂ امام حُسین علیہ السّلام میں منعقد ہوئی۔

نجف اشرف میں بھی عزادار کفن پہن کر اور قمہ اٹھائے جلوس کی صورت میں نکلے۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔
بعد ازاں پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی۔ کشیدگی کے بعد صحنِ حیدری کو خالی کرایا گیا اور روضۂ امیرالمؤمنین علی ابنِ ابی طالب علیہ الصلاۃ والسلام کے دروازوں پر تالے اور زنجیریں لگا دی گئیں۔

مؤرخ حسن حکیم اپنی کتاب "المفصل في تاريخ النجف الأشرف" میں نقل کرتے ہیں کہ
شیخ قطیفی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ تالے خود بخود ٹوٹ گئے اور دروازے ازخود کھل گئے۔ اس منظر کو دیکھ کر حاضرین کی زبانوں پر صلوات بلند ہو گئی، اور پولیس کو پسپا ہونا پڑا۔
اسی واقعے کے بعد اہلِ نجف کی زبان پر یہ مشہور نعرہ جاری ہوا:

"یا داحی البیبان، حیدر یا علیؑ،
تو نے ابنِ ہاشمی کے تالے توڑ دیے!"

حکومت نے وسطی اور جنوبی عراق کے دیگر شہروں میں بھی عزاداری پر پابندیاں نافذ کیں، مگر ناصریہ میں شدید عوامی مزاحمت سامنے آئی۔
ذی قار کے قبائلی عمائدین کی قیادت میں احتجاجی تحریک اٹھی جس کے نتیجے میں حکومت کو اپنے فیصلے واپس لینے پڑے۔

یاسین ہاشمی نے بعد ازاں امام حُسین علیہ السّلام کے روضے کے قریب واقع "منارۃ العبد" کو بھی گرا دیا اور امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام و امام محمد تقی الجواد علیہ السّلام کے مزارات کے بارے میں بھی سخت دھمکیاں دیں۔
لیکن زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ بکر صدقی کی فوجی بغاوت نے اس کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔
یاسین ہاشمی شام فرار ہو گیا، جہاں وہ چند ماہ بعد واصل جہنم ہو گیا۔
SS_FAMLY.
Duwa go
Tanveerbaqir channo.

Address

Karachi
KARACHI

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haq ki baten posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share