میں پھر اوں گاانتظار کرنا

میں پھر اوں گاانتظار کرنا just fun maza

Note
04/05/2025

Note

مریم این بیون "دنیا کی بدصورت ترین عورت" کے لقب سے موسوم ہیں لیکن جب آپ کو اس کی کہانی کا پتہ چل جاتا ہے تو آپ انہیں "دن...
04/05/2025

مریم این بیون "دنیا کی بدصورت ترین عورت" کے لقب سے موسوم ہیں لیکن جب آپ کو اس کی کہانی کا پتہ چل جاتا ہے تو آپ انہیں "دنیا کی سب سے خوبصورت عورت" کہتے ہیں۔

اپنی شدید بیماری کے باوجود انھوں نے اپنے بچوں کی ہر سہولت مہیا کی, بڑے قرضے جمع کرنے اور اپنی مایوسی اور معاشی ضرورت کے ساتھ وہ ذلت آمیز انعام جیتنے والی "دنیا کی بدصورت ترین عورت" کے مقابلہ میں داخل ہوٸیں, اس کے بعد انہیں برٹین کے شہروں کا دورہ کرتے ہوئے سرکس میں لے جایا گیا جہاں دنیا بھر سے لوگ "دنیا کی اس بدصورت کو عورت" دیکھنے کے لئے پہنچے.

اس انعام کے باوجود بھی وہ لوگوں کے مذاق اڑانے کو ترجیح دیتی رہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کی پرورش کرسکیں اور انہیں اچھی تعلیم دے سکیں۔ وہ 1933 میں امریکہ چلی گئیں جہاں ان کا انتقال ہوگیا😥

مجھے بس اتنا کہنا ہے......!!
اگر روح کی خوبصورتی کے معیارات دنیا میں موجود ہیں تو مریم این بیون دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہونگی.🖤❤🥀

یہ کسی عام فقیر کی تصویر نہیں یہ سجاول تحصیل ٹھٹھہ (سندھ) سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف کہانی نویس اور ناول نگار محتر...
04/05/2025

یہ کسی عام فقیر کی تصویر نہیں
یہ سجاول تحصیل ٹھٹھہ (سندھ) سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف کہانی نویس اور ناول نگار محترم مشتاق کاملانی ہیں
کاملانی صاحب سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالب علموں میں سے ایک تھے۔ مشتاق احمد کاملانی صاحب فر فر انگریزی بولتے ہیں، فارسی، پنجابی اور اردو تو جیسے آپ کی مادری زبانیں ہوں
مشتاق احمد کاملانی صاحب نے اپنے افسانے “گونگی بارش” اور “چپٹا لہو” لکھ کر سندھی افسانہ نگاری میں وہ نام پیدا کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا نام کہانی اور افسانہ نگاروں کے صفحہ اول میں شمار ہونے لگا. کاملانی صاحب نے اپنا ناول “رولو” عین گریجویشن کے امتحان کے دوران ہی لکھا تھا۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے مارشل لاء کے زمانے میں ایک کہانی “گھٹی ہوئی فضا” کے نام سے بھی لکھی ہے۔
اب اس نامور ادیب کے چھوٹے سے گھر پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور اب یہ کئ سالوں سے دن کے وقت ٹھٹھہ کی گلیوں میں اور رات کو سجاول کے بس سٹاپ پر بھیک مانگتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کاملانی صاحب کے چہرے پر آپ کو بیک وقت دو مخالف کیفیتیں دیکھنے کو ملیں گی یعنی آنکھوں میں آنسو، اور ہونٹوں پر تمام انسانیت پر طنزیہ مسکراہٹ
خدارا ! مشتاق کاملانی صاحب کے ساتھ ہو نے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیے ورنہ مشتاق کاملانی صاحب کے ذیل کے اس جملے پر ہی عمل کر لیجیئے جو اس نے ایک کہانی میں لکھا ہے۔
"اگر خدا نے تمہارے منہ میں زبان رکھی ہے اور اسے سچ کہنے کے لیے اس کا استعمال نہیں کرتے، تو ایک احسان کرو، اسے کٹوالو… اور ہاں! جہاں اتنی محنت ہوگی، وہاں ایک کام اور بھی کروا لینا… اپنی یہ ناک بھی کٹوا دینا…، انسانیت کو تم پر کم از کم شرم تو نہ آسکے۔"

Address

Faisalabad
Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when میں پھر اوں گاانتظار کرنا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category